الجزائر میں 4 جولائی کوصدارتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان

الجزائر میں دو عشرے تک حکمراں رہنے والے صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے مستعفی ہونے کے ایک ہفتے کے بعد عبوری حکومت نے 4 جولائی کو نئے صدارتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ الجزائر کے عبوری صدر عبدالقادر بن صالح نے قبل ازیں منگل کو ایک نشری تقریر میں ملک میں آزادانہ اور شفاف انتخابات کرانے کا وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ’’میں عوام کے مفادات کی تکمیل کے لیے کام کرنا چاہتا ہوں ۔ آئین نے مجھ پر یہ بھاری ذمے داری عاید کی ہے‘‘۔

دریں اثناء الجزائر کے النہار ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ نے دس نئی سیاسی جماعتوں کو لائسنس جاری کیے ہیں۔ الجزائر کے آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل قاید صالح نے سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ حکمران اشرافیہ کے ارکان کے خلاف بدعنوانیوں کے الزامات پر مقدمات چلانے کے حامی ہیں اور وہ انتخابات کے انعقاد کے لیے ایک عبوری حکومت کے قیام کی حمایت کریں گے۔ان کا یہ بیان اس بات کا بھی مضبوط اشارہ تھا کہ فوج صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے مستعفی ہونے کے بعد اپنا بادشاہ گر کا روایتی کردار ادا کرے گی۔

الجزائر کے سابق صدر بوتفلیقہ اپنے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے بعد گذشتہ ہفتے مستعفی ہوگئے تھے۔ مظاہرین اب ان کے قریبی مصاحبین اور ان کی نسل سے تعلق رکھنے والے تمام سیاست دانوں سے حکومتی عہدے چھوڑنے کا مطالبہ کررہے ہیں مگر آئینی تقاضے آڑے آرہے ہیں اور آئینی قواعد کی پیروی کرتے ہوئے ایوانِ بالا کے اسپیکر عبدالقادر بن صالح کو 90 روز کے لیے ملک کا نیا عبور ی صدر مقرر کیا گیا ہے۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے بن صالح کی نامزدگی کی حمایت کرنے سے انکار کردیا تھا اور انھوں نے پارلیمان کے اجلاس کا بھی بائیکاٹ کیا تھا۔ سیکڑوں طلبہ نے دارالحکومت الجزائر میں عبوری صدر کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔

پارلیمان کے اجلاس سے قبل حکومت نواز اخبار المجاہد میں منگل کے روز ایک اداریے میں اس رائے کا اظہار کیا گیا تھا کہ بن صالح کو صدر کے منصب پر فائز نہیں ہونا چاہیے۔اخبار نے لکھا کہ شہری تحریک، پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں مختلف سیاسی گروپ اور حزبِ اختلاف انھیں قبول کرنے کو تیار نہیں ۔

الجزائر میں سابق علیل صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے خلاف فروری کے تیسرے ہفتے میں عوامی احتجاجی تحریک شروع ہوئی تھی اور عوام نے ان کے پانچویں مدتِ صدارت کے لیےامیدوار بننے کے خلاف احتجاج شروع کردیا تھا۔ اس کے ردعمل میں انھوں نے 18 اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخابات ملتوی کر دیے تھے اور بہ طور امیدوار دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا مگر مظاہرین ان کے اس اعلان سے مطمئن نہیں ہوئے تھے۔انھوں نے اپنا احتجا ج جاری رکھا تھا جس کے بعد گذشتہ ہفتے انھیں عوامی تحریک کے نتیجے میں بیس سال کے بعد منصبِ صدارت سے سبکدوش ہونا پڑا تھا۔

About BBC RECORD

Check Also

ترکی کو F 35 امریکی طیاروں کی فروخت بند، ترک ہواباز بیدخل

Share this on WhatsAppامریکا نے کہا ہے کہ وہ ترکی کو ایف – 35 طرز ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے