اسد رجیم کی وفادار اداروں کے صحافیوں کی پکڑ دھکڑ کے محرکات

شام کی اسد رجیم اور اس کے ماتحت ابلاغی اداروں میں گذشتہ کچھ عرصے سے ایک کشمکش جاری ہے۔ اس کے نتیجے اسد رجیم کے وفادار سمجھے جانے والے کئی صحافیوں کو سیکیورٹی اداروں کو ناراض کرنے کی پاداش میں جیل کی ہوا کھانا پڑی۔ کئی پراسرار طور پر لاپتا ہیں۔ بعض کے خلاف عدالتوں میں مقدمات بھی چل رہے ہیں جب کہ سوشل میڈیا پرعلانیہ محاذ آرائی اس کے علاوہ ہے۔

اسد رجیم کے سیکیورٹی اداروں اور عدالتوں‌ نے صحافیوں کی ایک بڑی تعداد کو حراست میں لے رکھا ہے۔ یہ صحافی حکومت مخالف نہیں بلکہ اسد رجیم کے گن گانے والے ہیں، مگر کسی سرکاری ادارے سے مخالفت نے انہیں مشکلات سے دوچار کر دیا۔ حال ہی میں وزارت اطلاعات کے ماتحت ایک صحافی نے حلب کے گورنر حسین دیاب کے خلاف عدالت میں دعویٰ دائرکیا ہے۔

بشارالاسد کے مقرب سمجھے جانے والے شادی حلوۃ نے’فیس بک’ پر پوسٹ ایک بیان میں لکھا کہ اس نے حسین دیاب کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے۔ دیاب طاقت کا ناجائز استعمال، صحافی امور میں مداخلت اور افواہیں پھیلانے کے لیے دبائو ڈالتے رہے ہیں۔ افواہیں پھیلانے سے انکار پر حسین دیاب نے حلب میں ماتحت تمام اہم عہدیداروں کو یہ حکم دیا کہ وہ شادی حلوۃ کے ساتھ کسی پروگرام میں شرکت نہیں کریں‌ گے۔ دیاب کا یہ حکم پیشہ وارانہ صحافتی امور میں کھلی مداخلت ہے۔ حلوۃ نے یہ بات ایک فوٹیج میں بھی کہی ہے۔ یہ ویڈیو 24 دسمبر کو جاری کی گئی جس میں کہا گیا "سازشیں بند کریں، میں شامی ٹیلی ویژن کا نامہ نگار ہوں”۔

حلوۃ کا کہنا ہے کہ عدالت میں گورنر کے خلاف قانونی کارروائی کا اسے حق حاصل ہے اور اس نے ایک ایسی شخصیت کے خلاف دعویٰ کیا ہے جس کا عہدہ وزیر کے برابر ہے۔ شادی حلوۃ کے بحران سے قبل اسد رجیم کی وفادار ایک ویب سائٹ کے بانی وسام الطیر کو بھی پولیس نے حراست میں لیا۔ وہ ایک مقامی ریڈیو سونیل علی کے ساتھ بھی کام کرتا ہے۔ اس کی گرفتاری کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔

سنہ 2017ء کو اسد رجیم نے نامہ نگار رضا پاشا کو شام میں میڈیا کوریج سے روک دیا۔ اس کے بعد بعث پارٹی نے اس کے خلاف عدالت میں ایک کیس کیا جس میں اسے کئی ہفتے حراست میں رکھا گیا۔

رواں سال اکتوبر میں شامی سیکیورٹی فورسز نے صحافی ایھاب عوض اور صحافیہ روعلا السعدی کو حراست میں لیا اور انہیں 20 روز کے بعد رہا کیا گیا۔ اگست میں صحافی عاصم درائو کی گرفتاری عمل میں لائی گئی جبکہ اپریل میں صحافی عامر الغزو اور جون میں فہد کنجو کو گرفتار کیا گیا۔

About BBC RECORD

Check Also

شام: ’سرکاری سرپرستی‘ میں جنسی زیادتیاں

Share this on WhatsAppایک نئی دستاویزی فلم شام کے سرکاری قید خانوں میں ہونے والے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے