رواں سال پاکستان سے شائع تحقیقی مقالوں میں اضافے کی شرح کئی ممالک سے زیادہ

: سال 2017ء اور 2018ء میں پاکستان سے شائع ہونے والے (سائنسی) تحقیقی مقالوں کی تعداد عین اسی عرصے میں کئی ترقی پذیر ممالک سے پیش کیے جانے والے تحقیقی مقالوں سے کہیں زیادہ ہے۔اس بات کا انکشاف ہفت روزہ سائنسی جریدے نیچر کی تازہ اشاعت میں کیا گیا ہے۔ نیچر میں شائع ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں سال 2018ء میں شائع شدہ تحقیقی مقالوں کی فیصد تعداد مصر اور پاکستان کا گراف تیزی سے بڑھا ہے جو بالترتیب 21 اور 15.9 فیصد ہے۔

یہ اعداد و شمار ایک پبلشنگ سروسز کمپنی کلریویٹ نے مرتب کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور مصر اس دوڑ میں اپنی ہی طرح کی ابھرتی ہوئی معیشتوں مثلاً بھارت، چین، ہانگ کانگ، میکسکو، ایران، پولینڈ اور جنوبی امریکا سے آگے ہیں۔
خیال رہے کہ یہ اعداد بالحاظ فیصد پیش کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2018ء میں دنیا بھر سے پیش کردہ تحقیقی مقالہ جات کی تعداد میں مجموعی طور پر 5 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور اس سال سائنسی علوم کے خزانے میں 1,620,731 مقالہ جات کا اضافہ ہوا ہے۔ عالمی سطح پر ماہرین نے اس رجحان کا خیر مقدم کیا ہے۔

اوہایو اسٹیٹ یونیورسٹی میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی کی تجزیہ کار، کیرولن ویگنر نے اسے ایک غیرمعمولی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ’ 1980ء میں صرف 5 ممالک 90 فیصد سائنس تخلیق کررہے تھے جن میں جرمنی، جاپان، برطانیہ ، امریکا اور فرانس شامل تھے۔ اب اس فہرست میں 20 ممالک شامل ہوچکے ہیں۔ ‘

یہ اعدادوشمار نیچر میگزین کے لیے ویب آف سائنس کی مالک کمپنی کلیری ویٹ نے جمع کیے ہیں جن میں 40 ایسے ممالک کو شامل کیا گیا ہے جنہوں نے عالمی ڈیٹابیس میں 10 ہزار سے زائد تحقیقی مقالے شائع اور جمع کرائے ہیں۔ اس میں جنوری سے اگست تک شائع ہونے والے ریسرچ پیپرز کو شامل کیا گیا ہے۔ ایسے مقالے زیادہ ہیں جو تحقیقی اور تجزیہ جاتی (ری ویو) پر مبنی ہوں۔

ماہرین نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر تحقیقی مقالہ جات شائع کرنے کا سلسلہ بڑھ رہا ہے جو 2019ء میں بھی جاری رہے گیا تاہم ماہرین پاکستان اور مصر کی غیرمعمولی صلاحیت کو جاننے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ دونوں ممالک ان 40 ممالک کی فہرست پہلے بہت پیچھے تھے اور جب وہاں مقالے زیادہ چھپے تو فیصد کے لحاظ سے یہ فرق بہت نمایاں نظر آیا۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان اور مصر کے سائنس داں بین الاقوامی شراکت سے تحقیق کررہے ہیں اور اس مد میں فنڈنگ میں اضافہ ہوا ہے جس کا اثر تحقیقی مقالوں پر پڑا ہے۔تاہم ماہرین نے کہا ہے مقالوں کے جرنل میں اس بار مقامی یا اسی ملک میں چھپنے والے تحقیقی جرنلز اور جرائد کو شامل کیا گیا ہے جس سے ڈیٹا بیس بڑھا ہے تاہم اس دوڑ میں اب بھی افریقا بہت پیچھے ہے جو ایک تشویش ناک امر ہے۔دوسری جانب چین کا گراف گزشتہ دو دہائیوں سے مسلسل بڑھ رہا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ چینی سائنس پالیسی بہت ہمہ گیر اور مضبوط ہے جس میں اعلیٰ تعلیم پر غیرمعمولی توجہ دی جارہی ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین بہت جلد امریکا کو پیچھے چھوڑدے گا کیونکہ اس سال دونوں ممالک کے درمیان صرف 35 ہزار سائنسی مقالوں کا فرق رہ گیا ہے۔ دوسری جانب حوالہ جات (سائٹیشن) کے لحاظ سے چین کی پوزیشن بہت اچھی ہورہی ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

چین نے پانی اور زمین پر چلنے والی دنیا کی پہلی ڈرون کشتی تیار کرلی

Share this on WhatsAppبیجنگ: چین نے ڈرون ٹیکنالوجی سے لیس دنیا کی پہلی بحری اور ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے