سکھ مذہبی نشریات والے ٹی وی چینل دوبارہ کھولے جائیں: پاکستانی سکھ

پشاور : پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ نے گزشتہ ماہ پاکستان میں بھارتی ٹی وی چینلز کی نشریات پر پابندی عاید کر دی ہے۔ اس حکم نامے سے سکھوں کی مذہبی نشریات دکھانے والے چینلز بھی متاثر ہوئے ہیں، جس سے سکھ برادری ناخوش ہے۔ رادیش سنگھ روزانہ شام 7 بجے ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں کیونکہ ٹی وی پر روزانہ چھ سے آٹھ بجے بھارت میں واقعہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ ’گولڈن ٹیمپل‘ میں ہونے والے ’پاٹ‘ کی نشریات براہ راست نشر کی جاتی ہے۔ رادیش سنگھ کہتے ہیں کہ ان مذہبی مقامات کو دیکھنے سے انہیں دلی خوشی ہوتی ہے۔

گزشتہ مہینے کے اواخر سے پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ نے ملک کے اندر تمام بھارتی چینلوں کی نشریات پر پابندی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد ایسے تمام انڈین چینل جن پر انڈین فلموں، ڈراموں اور میوزک کے پروگراموں سمیت سکھوں کے مذہبی پروگرام نشر کرنے والے چینلز پر بھی بند کر دیے گئے۔ ‘پی ٹی سی پنجاب’ اور ‘چاردیکالا ٹائم ٹی وی’ دن میں دو مرتبہ صبح و شام چار سے آٹھ بجے تک ’گولڈن ٹیمپل‘ کی نشریات نشر کرتے ہیں۔

سکھ صحافی منمیت کور نے ’بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بیٹھ کر ہم اپنے مذہبی مقامات کی درشن کرتے تھے، پاٹ سنتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً ہر گھر میں شام کے اوقات میں تیز آواز میں یہ نشریات لگائی جاتی تھیں، مگر اب ہم اس سے محروم ہوگئے ہیں۔سکھوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکن باباجی کوپال سنگھ نے ’ بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کو غلط نہیں کہتے مگر ہم چاہتے ہیں کہ اگر بند کرنا ہی ہے تو ایسے چینلز کو بند کیا جائے جس پر فلم، ڈرامے یا گانے چلائے جاتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی ’پاٹ‘ اور ’یاترا‘ سے کسی کا کیا نقصان ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو اس فیصلے پر نظر ثانی کر کے ’پیمرا‘ اور کیبل آپریٹرز کو حکم دینا چاہئے کہ وہ ان چینلز کو دوبارہ کھولیں۔
انہوں نے کہا کہ آج دیوالی ہے اور اس موقع پر سکھ مذہبی تہوار "بندی چھوڑ دیوس” منایا جاتا ہے۔ اس تہوار کی تایخ کے بارے میں ہم نے بزرگوں سے سنا ہے اور یہ نسل در نسل چلی آرہی ہے۔ مگر ان چینلز پر اس تہوار کی تاریخ اور رسم و رواج کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ تاہم، اب ہم اور ہمارے بچےاس تاریخ کو جاننے سے محروم ہو رہے ہیں۔رادیش سنگھ نے کہا کہ اسے اس بات سے کوئی سروکا نہیں کہ حکومت کونسا چینل کھولتی ہے یا کونسا بند کرتی ہے۔ لیکن، اگر صرف ان خاص اوقات میں ان کی نشریات کی اجازت دی جائے جب ان چینلز پر ہمارے مذہبی نشریات چل رہی ہو، تو بھی ہمارے لئے کافی ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی سی پنجاب گولڈن ٹیمپل سے اپنی براہ راست نشریات صبح و شام چار سے آٹھ تک جاری رکھتا ہے، جبکہ چاردیکالا ٹائم ٹی وی کی نشریات رات دو بجے سے صبح آٹھ تک ہوتی ہے۔ رادیش نے کہا کہ جن علاقوں میں گردوارے موجود ہیں وہاں پر مرد گھروں سے نکل کر گردوارے میں درشن کر آتے ہیں مگر خواتین گھروں کے کام کاج کی وجہ سے محروم رہ جاتی ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

مسئلہ کشمیرپرایٹمی جنگ ہوسکتی ہے، صدرآزادکشمیر

Share this on WhatsAppاسلام آباد: آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے