سعودی عرب اور اسپین کی بحری فوجی صنعت کے درمیان باہمی تعاون کا سمجھوتا

سعودی عرب کی ملٹری انڈسٹریز کمپنی (سامی) اور اسپین کی سرکاری جہاز ساز کمپنی نوانتیا میرین انڈسٹریز نے سامی نوانتیا نیول انڈسٹریز کے نام سے ایک مشترکہ منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان اس سلسلے میں الریاض میں ایک سمجھوتا طے پایا ہے اور اس پر سعودی عرب کی ملٹری انڈسٹریز کمپنی کے چیئرمین احمد الخطاب اور نوانتیا کے چئیرمین گونزالو میٹیو گوریرو الکازار نے دست خط کیے ہیں۔ واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اپریل میں دفاعی صنعت کو فروغ دینے کے لیے ایک سمجھوتا طے پایا تھا اور اس پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ہسپانوی دارالحکومت میڈرڈ کے دورے کے موقع پر دستخط کیے گئے تھے۔

سعودی عرب اور اسپین کے درمیان طے پائے اس سمجھوتے کا مقصد 2030ء تک فوجی صنعت کو 50 فی صد تک سعودی بنانا ہے۔سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق اس نئے منصوبے سے سعودی ملٹری انڈسٹریز کو فوجی اخراجات کو 50 فی صد تک کم کرنے میں مدد ملے گی۔اس سے سعودی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور انھیں فوجی صنعت میں تربیت کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔

اس مشترکہ منصوبے کے تحت سعودی عرب اور اسپین کی مذکورہ دونوں فرمیں پانچ بحری جہاز ایونتی 2200 تیار کریں گی ۔ یہ سعودی عرب کی شاہی بحریہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیار کیے جائیں گے اور ان سے فوجی جہاز سازی کی صنعت سے آمدن میں بھی اضافہ ہوگا اور2030ء تک اس آمدن کا حجم آٹھ ارب ڈالرز تک ہو جائے گا۔

About BBC RECORD

Check Also

ریاض: سعودی عرب نے پہلے نیوکلیئرمنصوبے کا سنگِ بنیاد رکھ دیا

Share this on WhatsAppریاض : سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے