امریکی انتخاب ، دو مسلمان خواتین نے کانگریس میں جگہ بنالی

واشنگٹن: امریکی وسط مدتی انتخابات میں تاریخ رقم ہوگئی اور دو مسلمان خواتین چھتیس سالہ صومالی نژاد الہان عمر اور فلسطینی نژاد رشیدہ نے کانگریس میں جگہ بنالی۔تفصیلات کے مطابق امریکی وسط انتخابات خواتین کے نام رہا اور امریکی تاریخ میں پہلی بار خواتین کی بڑی اکثریت کامیاب ہوئی، نوے سے زیادہ خواتین الیکشن جیت گئیں۔امریکی تاریخ میں پہلی بار دو مسلمان خواتین ایوان نمائندگان میں پہنچ گئیں، دونوں مسلمان خواتین کا تعلق ڈیموکریٹس جماعت سے ہے۔

چھتیس سالہ الہان عمر نے ریاست منی سوٹا سے کامیابی حاصل کی، انھوں نے 72 فیصد ووٹ حاصل کئے جبکہ ان کے مدمقابل ری پبلکن امیدوار صرف 22 فیصد ووٹ حاصل کرسکے۔صومالیہ کے دارالحکومت موغا دیشو میں پیدا ہونے والی الہان 8 سال کی عمر میں خانہ جنگی کے بعد امریکا آئی تھیں، انھوں نے بین الاقوامی امور میں ڈگری حاصل کی اور سیاست میں حصہ لینا شروع کردیا اور دو ہزار سولہ کے انتخابات میں وہ مینسوٹا اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔

فلسطینی نژاد رشیدہ طلائب نے ریاست مشی گن سے کامیابی حاصل کی، ان کے مقابلے میں ری پبلکنز کا کوئی امیدوار سامنے نہیں آیا۔بیالیس سالہ رشیدہ کے والد بیت المقدس اور والدہ غربِ اردن کی ہیں، یہ لوگ مشی گن آکر آباد ہوئے، جہاں رشیدہ پیدا ہوئیں، وہ 14 بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں، رشیدہ نے قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے سیاست میں حصہ لینا شروع کیا اور 2008ء میں مشی گن کی ریاستی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل کوئی مسلم خاتون کبھی کانگریس سے منتخب نہیں ہوئیں۔امریکی وسط مدتی انتخابات کے دوران ڈیموکریٹس نے مطلوبہ نشستیں حاصل کرکے ایوان نمائندگان پرکنٹرول حاصل کرلیا، ایوان نمائندگان کی 435 میں سے 222 نشستوں پر ڈیموکریٹس کو برتری حاصل ہے جبکہ ری پبلکنز ابھی تک 201 نشستیں حاصل کرپائے ہیں۔دوسری جانب سینیٹ میں ری پبلکنز نے 51 نشستیں حاصل کرلیں جب کہ ڈیموکریٹس 43 نشستوں کے ساتھ پیچھے ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

میرکل کا متبادل: خاتون سیاستدان جرمن سیاسی منظر پر

Share this on WhatsAppجرمنی میں ایک خاتون سیاستدان دان آنے گریٹ کرامپ کارنباؤر کو انگیلا ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے