مقبوضہ کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ اور مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں 13 سال بعد بلدیاتی انتخابات آج ہو رہے ہیں جسے غیور کشمیری عوام نے بائیکاٹ کر کے مسترد کردیا ہے۔ کشمیری میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں آج 13 سال بعد ہونے والے بلدیاتی انتخابات کو جعلی قرار دیتے ہوئے حریت رہنماؤں کی اپیل پر الیکشن کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔ پولنگ اسٹیشن خالی اور انتخابی گہماگہمی کے بجائے ہُو کا عالم ہے۔ پہلے 6 گھنٹے میں ٹرن آؤٹ محض 6 فیصد رہا۔

اس موقع پر مکمل شٹر ڈاؤں ہڑتال ہے، ذرائع آمد و رفت، کاروباری سرگرمیاں اور تعلیمی ادارے بند ہیں جب کہ بھارت نواز کٹھ پتلی انتظامیہ نے وادی میں انٹرنیٹ سروس بند کردی ہے۔ حریت رہنماؤں میر واعظ عمر فاروق، سید علی گیلانی اور یاسین ملک کو پہلے ہی نظر بند کیا جا چکا ہے جب کہ کارکنان کے گھروں پر رات گئے چھاپے مارے گئے۔ وادی میں بڑی تعداد میں اضافی نفری تعینات ہے اور جگہ جگہ ناکے لگائے گئے ہیں۔

حریت جماعتوں کے علاوہ مقبوضہ وادی کی دیگر جماعتوں نیشنل کانفرنس اور محبوبہ مفتی کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے بھی آرٹیکل 35 کا تنازعہ اٹھنے کے بعد انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے۔

آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ الیکشن زمینی حقائق کے بالکل برخلاف ہیں بھارت جمہوریت کے نام پر ڈرامہ کر رہا ہے اور بوگس الیکشن کے ذریعے کشمیری عوام کےموقف کو دبانا چاہتا ہے۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات چار مرحلوں میں 16 اکتوبر تک جاری رہیں گے۔ کئی علاقوں میں بلدیاتی نمائندے بلامقابلہ منتخب ہو چکے ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

قطری حکومت کی جانب سے پاکستانیوں کیلئے 1 لاکھ ملازمتوں کی پیشکش

Share this on WhatsAppنیویارک: قطری وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمٰن نے نیو یارک میں پاکستانی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے