پاکستان: 18 انٹرنیشنل این جی اوز کو ملک سے نکل جانے کا حکم

پاکستانی حکومت نے اٹھارہ بین الاقوامی غیر سرکاری امدادی اور ترقیاتی تنظیموں یا این جی اوز کو ملک سے نکل جانے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ بات ایکشن ایڈ نامی غیر ملکی غیر سرکاری تنظیم کی طرف سے جمعرات چار اکتوبر کو بتائی گئی۔ پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق ملکی حکومت کا یہ اقدام بیرون ملک سے ملنے والے سرمائے کی مدد سے پاکستان میں کام کرنے والی غیر ملکی تنظیموں کے خلاف تازہ ترین فیصلہ ہے۔

جن این جی اوز کو اپنا کام بند کر کے پاکستان سے رخصت ہو جانے کے لیے کہا گیا ہے، ان میں سے زیادہ تر بین الاقوامی غیر سرکاری گروپ انسانی حقوق کے شعبے اور اس سے متعلقہ موضوعات پر کام کرتے ہیں۔ اسی طرح کے ایک گزشتہ حکومتی حکم نامے میں ماضی میں پاکستان کی طرف سے ایک امدادی ایجنسی پر یہ الزام بھی لگایا گیا تھا کہ وہ اپنی سرگرمیوں کی صورت میں پاکستان میں ’ملک دشمن ایجنڈے‘ پر کام کر رہی تھی۔

ایکشن ایڈ، جو تعلیم کے پھیلاؤ، غربت کے خاتمے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم ہے، کے صدر دفاتر جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں ہیں۔ اس تنظیم کی طرف سے اسلام آباد میں بتایا گیا کہ اسے ملنے والے پاکستانی وزارت داخلہ کے ایک نوٹس میں اس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان میں اپنی سرگرمیاں بند کر دے اور اس کے تمام غیر ملکی کارکن پاکستان سے رخصت ہو جائیں۔

پاکستان میں ایکشن ایڈ کے ڈائریکٹر عبدالخالق نے روئٹرز کو بتایا کہ پاکستانی وزارت داخلہ کی طرف سے یہ نوٹس جاری کرتے ہوئے کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ اس حکومتی نوٹس کے ملنے کے بعد ایکشن ایڈ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ’’یہ اقدام انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں اور سول سوسائٹی پر ایک حملہ ہے۔‘‘

روئٹرز نے لکھا ہے کہ گزشتہ برس کے اواخر میں پاکستانی حکومت نے ملک سے جن 27 غیر سرکاری تنظیموں کو نکل جانے کا حکم دیا تھا، ان میں سے زیادہ تر انسانی حقوق کے شعبے میں کام کر رہی تھیں۔ ان بین الاقوامی تنظیموں میں سے ایکشن ایڈ اور 17 دیگر غیر ملکی گروپوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیلیں بھی دائر کر دی تھیں۔

اس بارے میں ایکشن ایڈ کے پاکستان میں سربراہ عبدالخالق نے روئٹرز کو بتایا کہ پاکستانی وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے انہیں جمعرات چار اکتوبر کو بتایا، ’’تمام 18 غیر ملکی این جی اوز، جنہوں نے حکومت کے گزشتہ فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کر رکھی تھیں، ان سب کی اپیلیں مسترد کر دی گئی ہیں۔‘‘

روئٹرز کی طرف سے دیکھی گئی اس حکومتی نوٹس کی ایک نقل کے مطابق اس حکم نامے میں ان تنظیموں کو دوبارہ اپیل کا کوئی حق نہیں دیا گیا۔ اس کے برعکس ان تمام امدادی گروپوں سے کہا گیا ہے کہ وہ چھ ماہ بعد نئے سرے سے پاکستانی حکام کو اپنی رجسٹریشن کی درخواستیں دے سکتے ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

پاکستان میں ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل جاری

Share this on WhatsAppپاکستان بھر میں ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے