پاکستانی کشمیر میں پولیس اہل کاروں کا مظاہرین پر لاٹھی چارج

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس اہل کاروں نے مبینہ طور پر تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور ملازمت کا تحفظ نہ ہونے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ جمعرات کے روز کنٹریکٹ پر کام کرنے والے درجنوں پولیس اہل کار مستقل ملازمت کے حق اور کئی ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج کے لیے دارالحکومت مظفر آباد میں پریس کلب کے باہر جمع ہوئے۔

انہوں نے ہاتھوں میں کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر انصاف دو، تنخواہیں ادا کرو اور وزیر اعظم کے حکم پر عمل درآمد کے حق میں نعرے درج تھے۔مظاہرے میں شامل ایک پولیس اہل کار شعیب علی نے احتجاج کے بارے میں بتایا کہ ہم سے ہر طرح کی ڈیوٹی لی جا رہی ہے۔ ہم میرٹ پر بھرتی ہوئے، لیکن چار ماہ سے نہ تو تنخواہ دی جا رہی ہے اور نہ ہی ہمیں مستقل کیا جا رہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر مظفرآباد مسعود الرحمن نے بتایا کہ احتجاجی پولیس اہل کاروں کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے اقدام کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کنٹریکٹ کی بنیاد پر بھرتی ہونے والوں کو مستقل ملازمت کا حق حاصل نہیں ہوتا۔ تاہم احتجاجی پولیس اہل کاروں کا کہنا ہے کہ ہماری تعداد 538 ہے اور ہم دس سال سے پولیس کی ہر ڈیوٹی کر رہے ہیں۔ اور ملازمت کو مستقل کرنے کے لیے وزیراعظم کا حکم بھی آ چکا ہے، جس پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔ احتجاج میں شامل زاہد محمود نے بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز کو بتایا کہ وزیراعظم نے پچھلے سال ہمارے تمام 538 کنڑیکٹ ملازمین کو مستقل کر نے کا حکم دیا تھا اور اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا تھا، لیکن پولیس کے محکمے کے بعض عناصر ان کی مستقل ملازمت کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔

احتجاج کرنے والے پولیس اہل کاروں نے دھمکی دی ہے کہ وہ مستقل ملازمت کا حکم حاصل کیے بغیر احتجاج ختم نہیں کریں گے۔
جمعرات کی شام مظفر آباد پولیس نے پڑتالی پولیس اہل کاروں کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور اس موقع پر کئی گرفتاریاں بھی کی گئیں

About BBC RECORD

Check Also

پاکستان میں ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل جاری

Share this on WhatsAppپاکستان بھر میں ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے