مسلمانوں کی حرام خوری ( تجزیہ )

تحریر: شبیر خان سدوزئی

▪ہم نے اپنی 14 سو سالہ تاریخ میں اغیار کو اتنا فتح نہیں کیا. جتنا ہم ایک دوسرے کو فتح کرتے رہے‘ آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو گی کہ مسلمانوں نے دنیا کا 95 فیصد علاقہ اسلامی عروج کی پہلی صدی میں فتح کر لیا تھا‘
👈 مسلمان اس کے بعد 1350 سال اس علاقے کے لیے ایک دوسرے سے لڑتے رہے‘
👈 ہمارے علم‘ فلسفے‘ سائنس اور ایجادات کی ٪ 95 تاریخ بھی ابتدائی 300 سال تک محدود تھی۔
👈 ہم نے واقعی 1000 سال میں جنگوں کے سوا کچھ نہیں کیا‘
👈 آپ آج 2018ء سے ہزار سال پیچھے چلے جائیے‘

آپ کو۔۔۔۔▪ محمود غزنوی ہندوستان پر حملے کرتا ملے گا‘ سب سے پہلے ملتان پر حملہ کر کے اسماعیلی فرقے کے مسلمانوں کا قتل عام کیا کرتا تھا اور دولت لوٹ لے جاتا تھا ▪آپ اسپین میں مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کا گلہ کٹتے دیکھیں گے‘ ▪آپ کو ترکی میں سلجوق تلواریں اٹھا کر پھرتے نظر آئیں گے‘ ▪ آپ کو عرب میں لاشیں بکھری ملیں گی ▪مسلمان مسلمان کو فتح کر رہا ہو گا‘ ▪مسلمان مسلمانوں کی مسجدیں جلاتے دکھائی دیں گے

اور۔۔۔۔۔۔۔▪آپ مومن کے ہاتھوں مومنوں کے سروں کے مینار بنتے دیکھیں گے‘▪ آپ 1018ء سے آگے آتے چلے جائیں‘ آپ کے سارے طبق روشن ہوتے چلے جائیں گے‘

آپ کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔▪ مسلمان مسلمان کو قتل کرتے اور قتال کے درمیانی وقفے میں حرام خوری کرتے نظر آئیں گے.

👈ہم نے اس کے بعد باقی ہزار سال تک حرام خوری کے سوا کچھ نہیں کیا‘ عالم اسلام ہزار سال سے۔۔۔
👈 کنگھی سے لے کر nail cutter تک ان لوگوں کی استعمال کر رہا ہے …جنھیں ہم دن میں پانچ بار بددعائیں دیتے ہیں‘
👈 آپ کمال دیکھئے‘ہم مسجدوں میں یہودیوں کے پنکھے اور اے سی لگا کر‘
👈 عیسائیوں کی ٹونٹیوں سے وضو کر کے‘
👈 کافروں کے ساؤنڈ سسٹم پر اذان دے کر

اور

👈 لادینوں(China) کی جائے نمازوں پر سجدے کر کے … ساری دنیا کے لادینوں کی بربادی کے لیے بددعائیں کرتے ہیں۔ ▪ہم ادویات بھی یہودیوں کی کھاتے ہیں‘▪ بارود بھی کافروں کا استعمال کرتے ہیں
اورپوری دنیا پر اسلام کے غلبے کے خواب بھی دیکھتے ہیں‘▪ آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو گی ہم خود کو دنیا کی بہادر ترین قوم سمجھتے ہیں

▪لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم نے پچھلے پانچ سو برسوں میں کافروں کے خلاف کوئی بڑی جنگ نہیں جیتی‘ ہم پانچ صدیوں سے مار اور صرف مار کھا رہے ہیں‘
▪پہلی جنگ عظیم سے قبل پورا عرب ایک تھا‘ یہ خلافت عثمانیہ کا حصہ ہوتا تھا‘▪ یورپ نے 1918ء میں عرب کو12ملکوں میں تقسیم کر دیا اور دنیا کی بہادر ترین قوم دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی۔

👈ہم اگر جنگجو تھے‘ ہمارا اگر لڑنے کا چودہ سو سال کا تجربہ تھا تو ہم کم از کم لڑائی ہی میں ’’پرفیکٹ‘‘ ہو جاتے
👈 اور کم از کم دنیا کے ہر ہتھیار پر ’’میڈ بائی مسلم‘‘ کی مہر ہی لگ جاتی

اور

👈 ہم اگر دنیا کے بہادر ترین فوجی ہی تیار کر لیتے تو ہم آج مار نہ کھا رہے ہوتے‘

👈 آج کم از کم عراق‘ لیبیا‘ مصر‘ افغانستان اور شام انسانی المیہ نہ بن رہے ہوتے۔

👇

آپ اسلامی دنیا کی بدقسمتی ملاحظہ کیجیے‘

👈 ہم لوگ آج یورپی بندوقوں‘ ٹینکوں‘ توپوں‘ گولوں‘ گولیوں اور امریکی جنگی جہازوں کے بغیر اور ان کی war technologies کی مدد کے بغیر "خانہ کعبہ” کی حفاظت بھی نہیں کر سکتے‘

👈 ہماری تعلیم کا حال یہ ہے دنیا کی 100 سو بڑی یونیورسٹیوں کی فہرست میں اسلامی دنیا کی ایک بھی یونیورسٹی نہیں آتی‘

👈 ساری اسلامی دنیا مل کر جتنے ریسرچ پیپر تیار کرتی ہے وہ امریکا کے ایک شہر بوسٹن میں ہونے والی ریسرچ کا نصف بنتا ہے۔

👈 پوری اسلامی دنیا کے حکمران علاج کے لیے یورپ اور امریکا جاتے ہیں‘

👈 یہ اپنی زندگی کا آخری حصہ یورپ‘ امریکا‘ کینیڈا اور نیوزی لینڈ میں گزارنا چاہتے ہیں‘

👈 دنیا کی ٪90 تاریخ اسلامی ملکوں میں ہے لیکن اسلامی دنیا کے ٪90 خوشحال لوگ سیاحت کے لیے مغربی ملکوں میں جاتے ہیں‘

👈 ہم نے پانچ سو سال سے دنیا کو کوئی دواء‘
کوئی ہتھیار‘
کوئی نیا فلسفہ‘
کوئی خوراک‘
کوئی اچھی کتاب‘
کوئی نیا کھیل
اور
کوئی اچھا قانون نہیں دیا۔

👈 ہم نے اگر ان پانچ سو برسوں میں کوئی اچھا جوتا ہی بنا لیا ہوتا تو ہمارا فرض کفایہ ادا ہو جاتا‘

👈 ہم ہزار برسوں میں صاف ستھرا استنجہ خانہ نہیں بنا سکے‘
ہم نے موزے
اور سلیپر
اور گرمیوں میں ٹھنڈا
اور سردیوں میں گرم لباس۔۔۔
تک نہیں بنایا‘

👈 ہم نے اگر قرآن مجید کی اشاعت کے لیے کاغذ‘ پرنٹنگ مشین اور سیاہی ہی بنا لی ہوتی تو ہماری عزت رہ جاتی‘۔۔۔مگر یہ بھی ھمارے علماء کے فکری ارتقاء میں بسنے والے "کافروں” نے ھی بنائی ھیں۔۔۔۔۔۔!

👈 ہم تو خانہ کعبہ کے غلاف کے لیے کپڑا بھی اٹلی سے تیار کراتے ہیں۔

👈 ہم تو حرمین شریفین کے لیے ساؤنڈ سسٹم بھی یہودی کمپنیوں سے خریدتے ہیں‘

👈 ہمارے لیے آب زم زم بھی کافر کمپنیاں نکالتی ہیں‘

👈 ہماری تسبیحات اور جاء نمازیں بھی چین (ایک لا دین ملک) سے آتی ہیں

👈 اور ہمارے احرام اور کفن بھی جرمن مشینوں پر تیار ہوتے ہیں‘

👈 ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ۔۔۔۔
👈 دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمان صارف سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے‘

👈 یورپ زندگی کی نعمتیں ایجاد کرتا ہے‘ بناتا ہے‘ اسلامی دنیا تک پہنچاتا ہے

اور ہم استعمال کرتے ہیں
اور
👈 اس کے بعد بنانے والوں اور ایجاد کرنے والوں کو ۔۔۔۔
آنکھیں نکالتے ہیں۔۔۔۔اور ان پر لاکھوں مرتبہ لعنت و ملامت بھیج کر سر فخر سے بلند کرتے ھیں۔۔۔۔۔۔!

👈👈 آپ یقین کیجیے جس سال آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے سعودی عرب کو بھیڑیں دینے سے انکار کر دیا اس سال مسلمان حج پر قربانی نہیں کر سکیں گے

👈👈 اور جس دن یورپ اور امریکا نے اسلامی دنیا کو گاڑیاں‘ جہاز اور کمپیوٹر بیچنا بند کر دیے

👈 ہم اس دن گھروں میں محبوس ہو کر رہ جائیں گے‘ ہم شہر میں نہیں نکل سکیں گے‘ یہ ہیں ہم اور یہ ہے ہماری اوقات لیکن آپ کسی دن اپنے دعوے سن لیں۔

👈 آپ ان نوجوانوں کے نعرے سن لیں جو میٹرک کا امتحان پاس نہیں کر سکے‘

جنھیں پیچ تک نہیں لگانا آتا
مگر۔۔۔۔۔۔۔
👈 جس دن ان کے بوڑھے والد کی دیہاڑی نہ لگے اس دن ان کے گھر چولہا نہیں جلتا‘

آپ ان کے نعرے‘
ان کے دعوے سن لیجیے‘

👈 یہ لوگ پوری دنیا میں اسلام کا جھنڈا لہرانا چاہتے ہیں‘

👈 یہ اغیار کو نیست ونابود کرنا چاہتے ہیں‘

👈 آپ اپنے علماء کرام کی تقریریں بھی سن لیجیے‘

یہ اپنے مائیک کی تار ٹھیک نہیں کر سکتے‘

👈 یہ اللہ اور اللہ کے رسولؐ کا نام اپنے مریدوں تک "مارک زکر برگ” کی Facebook کے ذریعے پہنچاتے ہیں۔

👈 یہ لوگوں کو تھوکنے کی تمیز تک نہیں سکھا سکے‘

یہ آج تک ابن تیمیہ‘
ابن کثیر‘
امام غزالی
اور …..
مولانا روم سے آگے نہیں بڑھ سکے‘

👈پورے عالم اسلام میں ایک بھی ایسا شخص نہیں جو ابن عربی کو سمجھنے کا دعویٰ کر سکے‘

👈 ابن ہشام اور ابن اسحاق بھی ہم تک آکسفورڈ پرنٹنگ پریس کے ذریعے پہنچے تھے

اور

👈 ابن رشد بھی ہمیں یورپ کے اسکالرز نے سمجھایا تھا

👈👈👈 لیکن آپ علماء کرام کی تقریریں سن لیں آپ کو محسوس ہو گا نعوذ باللہ‘ نعوذ باللہ پوری کائنات کا نظام مولانا اللہ دتہ چلا رہے ہیں‘

یہ جس دن حکم دے دیں گے اس دن سورج طلوع نہیں ہوگا اور
یہ جس دن فرما دیں گے اس دن زمین پر اناج نہیں اگے گا‘

👈 ہم نے آخر آج تک کیا کیا ہے؟

👈 ہم کس برتری پر خود کو دنیا کی عظیم ترین قوم سمجھتے ہیں جو آج تک ھر جمعہ کے خطبے میں گلہ پھاڑ پھاڑ کر "نظام مصطفی ” پر فخر کرنے کے باوجود اُسے مسلمانوں کے کسی بھی ملک میں نافذ نہیں کر سکے۔۔۔۔۔!
👈۔۔۔۔۔ مجھے آج تک اس سوال کا جواب نہیں مل سکا۔
👈 ہم اگر دل پر پتھر رکھ کر یہ حقیقت مان لیں تو پھر ہمیں پتہ چلے گا ہماری "حرام خوری” ہمارے جینز کا حصہ بن چکی ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

بشکریہ جاوید چوہدری: سوشل میڈیا کاپی پیسٹ

About BBC RECORD

Check Also

ترکی کی شام میں مہم صدر ایردوآن کی انتخابی خواہشات کا شاخسانہ؟ ( تجزیہ )

Share this on WhatsAppتحریر 🙁 ایقان اردامیر ) ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے شام ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے