پاکستان میں مقیم مہاجرین کو پناہ دینے پر غور کر رہے ہیں، عمران خان

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے مطابق ان کی حکومت ملک میں طویل عرصے سے مقیم افغان اور بنگلہ دیشی مہاجرین کو شہریت دینے کے معاملے پر غور کر رہی ہے۔ پاکستانی وزیراعظم نے اتوار سولہ ستمبر کے روز کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں جرائم کی شرح میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شہر میں کئی نوجوانوں کے پاس روزگار کے مواقع نہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے کراچی میں کئی دہائیوں سے مقیم افغان اور بنگلہ دیشی مہاجرین کا تذکرہ کیا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ان مہاجرین کے بچے بھی پاکستان میں پیدا ہو کر جوان ہو چکے ہیں لیکن ان کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ نہیں، جس کی وجہ انہیں نوکریاں نہیں ملتیں۔ عمران خان کی اس گفتگو کے بعد پاکستان میں مقیم بنگلہ دیشی اور افغان مہاجرین کو شہریت دینے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بحث کی جا رہی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا پاکستان میں مقیم بنگالیوں اور افغانیوں کو شناختی کارڈز اور پاسپورٹ دینے کا اعلان فراخدلی شاید اسے کہتے ھیں بنگالیوں کے ساتھ ساتھ افغانیوں کو بھی شہریت دئی جائے 😏آب اختر مینگل کے ان چھ شرائط کا کیا بنے گا جس میں افغان مہاجرین کا انخلاء اہم شق ہے ؟😎صحافی رضا رومی نے عمران خان کے اعلان کی تعریف کرتے ہوئے لکھا، ’’افغان اور بنگلہ دیشی مہاجرین کو شہریت کا حق دینے کا اعلان خوش آئند ہے۔ اگرچہ یہ قانون پہلے سے موجود ہے تاہم اس پر عمل درآمد کیے جانے کو خوش آمدید کہا جانا چاہیے۔ آئیے اجانب دشمنی کو مسترد کریں۔‘‘

اس فیصلے کی مخالفت میں ہیش ٹیگ #گو_افغانی_گو بھی ٹرینڈ کر رہا ہے۔ ”افغانیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ جناب وزیر اعظم عمران خان اپنا فیصلہ تبدیل کریں۔ افغان بھائیوں کی مہمان نوازی بھی بہت ہو چکی اب ان کا پرامن انخلا شروع ہونا چاہیے۔‘‘ایک ٹوئیٹر صارف نے لکھا، ”افغان یا دنیا کے کسی بھی ملک کے شہریوں کو مخصوص مدت کا ویزا دینا ۔۔۔ بری بات نہیں بلکہ اس سے دیگر ملکوں سے کاروباری لوگ بھی پاکستان کا رخ کریں گے۔ صرف امیگریشن (قوانین) مضبوط ہونا چاہییں ویزا ختم یا اوور سٹے کی پالیسی سخت ترین ہونی چاہیے البتہ نیشنیلٹی نہیں۔‘‘

ثنا بلوچ نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ شہریت دینے کے فیصلے کے بعد مزید مہاجرین پاکستان کا رخ کریں گے۔ جو مہاجر کیمپوں میں رہتے ہیں ان کو بھی پاکستانی شہریت دے دو یہ بھی کب سے پاکستان میں رہ رہے ہیں اور یہ بھی قربانیاں دیکر پاکستان آئے ہیں

افغان مہاجرین کی اکثریت پختونخواہ , فاٹا اور کوئٹہ میں آباد ہے یہ صرف کرآچی اور سندھ کا مسئلہ نہیں لیکن اب اسکا حل نکالنا پڑے گا ورنہ امن و امان کے مسئلے جاری رہیں گے اے این پی سے تعلق رکھنے والے سیاست دان میاں افتخار حسین نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں لکھا کہ ’یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستانی شہریت کے سن 1951 کے ایکٹ کے تحت آخر کار پاکستان میں پیدا ہونے والے افغان اور بنگالی مہاجرین کو شہریت دی جائے گی‘۔ اگرچہ عمران خان نے اپنی تقریر میں افغان، بنگلہ دیشی اور بہاری کمیونٹی کا ذکر کیا تھا تاہم سوشل میڈیا پر افغان مہاجرین کو شہریت دینے کی تجویز کو خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

افغان یا دنیا کے کسی بھی ملک کے شہریوں کو مخصوص مدت کا ویزہ دینا اور مدت ویزہ کی آئی ڈی دینا بری بات نہیں بلکہ اس سے دیگر ملکوں سے کاروباری لوگ بھی پاکستان کا رخ کریں گے صرف آپ کی امیگریشن مظبوط ہونی چاہیے ویزہ ختم یا اوور سٹے کی پالیسی سخت ترین ہونی چاہئے البتہ نیشنٹلی نہیں بلوچی اور سندھی صارفین کے علاوہ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی اس تجویز پر تنقید کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے ماروی سرمد نے اپنے ایک ٹوئیٹر پیغام میں لکھا، ’’بیرون ملک مقیم ’محب وطن‘ پاکستانیوں کی اکثریت طویل انتظار کے بعد غیر ملکی شہریت یا کام کے اجازت نامے حاصل کر چکے ہیں۔ لیکن جب پاکستان میں مقیم افغان اور بنگلہ دیشی مہاجرین کو ویسے ہی حقوق دیے جانے کی بات کی جائے تو ان کے منہ سے بھی اجانب دشمنی پر مبنی بیانیہ سامنے آتا ہے۔‘‘

About BBC RECORD

Check Also

لیگی قیادت نے اشتعال انگیزی کے لئے 10 لاکھ روپے تقسیم کیے، پنجاب حکومت

Share this on WhatsAppبندیا اسحاق بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز ؛ لاہور وزیراطلاعات پنجاب ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے