کرد باغیوں پر حملہ ’’غیرملکی طاقتوں‘‘ کو انتباہ کے لیے تھا: پاسدارانِ انقلاب ایران

سپاہِ پاسداران انقلاب ایران نے کہا ہے کہ گذشتہ ہفتے پڑوسی ملک عراق میں کرد باغیوں کے ٹھکانے پر میزائل حملہ ’’ طاغوتی غیرملکی طاقتوں ‘‘ کے لیے ایک انتباہ سمجھا جانا چاہیے۔ سپاہِ پاسداران انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل محمد علی جعفری نے نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ایسنا سے جمعرات کو گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ 2000 کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائلوں سے ایرانی قوم کو جابر غیرملکی طاقتوں کے خلاف لڑنے کی منفرد صلاحیت حاصل ہوگئی ہے‘‘۔

انھوں نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا:’’ جن غیرملکی طاقتوں کی ایران کی سرحدوں سے دو ہزار کلومیٹر نصف قطر میں مسلح افواج ،فوجی اڈے اور آلات موجود ہیں، انھیں جان لینا چاہیے کہ ہمارے میزائل ہدف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے کی صلاحیت کے حامل ہیں‘‘۔
ایرانی حکام ایک عرصے سے امریکا کو ایک ’’ عالمی طاغوت‘‘ قرار دیتے چلے آ رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ خلیج اور اس سے ماورا امریکا کے فوجی اڈے پاسداران انقلاب کے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی زد میں ہیں۔

جنرل جعفری کا کہنا تھا کہ ’’ دہشت گردوں کے خلاف ہماری حالیہ کارروائی میں دشمنوں کے لیے ایک بڑا واضح پیغام تھا ۔بالخصوص ان بڑی طاقتوں کے لیے جن کا یہ خیال ہے کہ وہ ہمیں ڈرا دھمکا سکتے ہیں ‘‘۔پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی فوج نے عراق کے خود مختار علاقے کردستان کے سرحدی علاقے میں کرد جمہوری پارٹی ایران ( کے ڈی پی آئی )کے ہیڈ کوارٹرز پر گذشتہ ہفتے کے روز میزائل داغے تھے جس کے نتیجے میں پندرہ ایرانی کرد ہلاک ہوگئے تھے۔ایران کا کہنا تھا کہ اس نے سرحدپار سے اس دہشت گرد گروپ کی بار بار کی دراندازی کے ردعمل میں یہ میزائل حملہ کیا تھا۔

پاسداران ِانقلاب کے مطابق کے ڈی پی آئی نے حالیہ مہینوں کے دوران میں ایران کے مغربی صوبوں آذر بائجا ن ، کردستان اور کرمان شاہ میں دہشت گردوں کی متعدد ٹیمیں بھیجی ہیں۔ایران میں کردوں کی یہ قدیم ترین تحریک ہے اور ایرانی حکومت نے اس کے لیڈروں کی بڑی تعداد کو ماضی میں مختلف کارروائیوں میں ہلاک کردیا ہے۔واضح رہے کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام اس کے امریکا کے ساتھ تعلقات میں باعثِ نزاع ہے اور امریکا ماضی میں متعدد مرتبہ ایران پر خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا الزام عاید کرچکا ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

امریکا اور چین کے درمیان نئی معاشی جنگ چھڑ گئی

Share this on WhatsAppواشنگٹن: امریکا اور چین نے ایک دوسرے کی اشیائے صرف پر اب ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے