لاهور کے شاہی قلعہ سے برطانوی دور کی توپیں دریافت

پاکستان کے شہر لاهور کے شاہی قلعے کے مثمم دروازے کی بحالی کے کام کے دوران برطانوی دور کی دو توپیں دریافت ہوئی ہیں۔ زمین میں دھنسی توپوں کے نشان والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کو مثمم دروازے اور بارود خانہ کے درمیانی حصے کا ملبہ ہٹاتے ہوئے ملے۔
لاهور کے شاہی قلعہ کے مُختلف حصوں میں بحالی کا کام چھ ماہ پہلے شروع ہوا تھا۔ تعمیراتی کام سے پہلے کنزرویشن ٹیم کے سامنے ایک بڑا چیلنج یہاں کی صفائی تھی۔ برسوں سے بند پڑے اور نظر انداز ہوتے تاریخی حصوں میں کچرے اور خستہ حال ملبے کے ڈھیر تھے۔

والڈ سٹی اتھارٹی کے ڈائریکٹر کنزرویشن نجم ثاقب کے مطابق اُن کی ٹیم شاہی باورچی خانے، بارود خانے اور مُثمم دروازے کی بحالی کے کام کے دوران اب تک ایک لاکھ پچاس ہزار کیوبک فُٹ ملبے اور کچرے کے ڈھیر اُٹھا چُکی ہے، جس کے بعد اُنہیں سکھ دور کی اشیا، زیر زمین راستے کا سُراغ مل گیا ہے۔ اور 13 ستمبر کو اُنہیں توپوں کے آثار ملے، جو مزید کُھدائی کرنے پر واضح ہو گئیں۔ عالمگیری دروازے سے شاہی قلعے میں داخل ہوتے ہوئے دائیں جانب کی یہ تاریخی عمارتیں سیاحوں کے لئے عرصہ دراز سے ممنوعہ علاقہ چلی آ رہی ہیں۔ خستہ حال مثمم دروازے کی مرمت، بارود خانے اور رائل کچن کے اردگرد جنگلی گھاس کی صفائی کے بعد ان جگہوں کو سیاحوں کے لئے کھولنے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔

زنگ آلود سیاہی مائل لوہے کی بھاری توپوں کے دریافت ہونے کے بعد والڈ سٹی اتھارٹی نے ان کی صفائی کا کام شروع کر دیا ہے۔
بی بی سی ریکارڈ لندن: سے بات کرتے ڈائریکٹر کنزرویشن نجم ثاقب نے بتایا کہ یہ توپیں بہترین حالت میں ہیں، اسی لئے انہیں بارود خانے، برطانوی دور کے پُل یا جیل کے باہر نصب کرنے پر غور کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ ہمیں برطانوی دور حکومت کی یاد دلاتی ہیں لیکن اس سے پہلے ان کے وزن، حُجم اور تاریخ جاننے کے لئے تحقیق کی جائے گی۔توپوں پر واضح طور پر کھدے ہوئے نمبر اور تاج دیکھے جا سکتے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا تعلق نو آبادیاتی دور سے ہے۔

والڈ سٹی اتھارٹی کی ترجمان تانیہ قریشی نے بتایا کہ مثمم دروازہ شاہ جہان کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا، جبکہ بارود خانہ اور یہاں آنے والا شاہی راستہ انگریز دور میں اُس وقت بنایا گیا جب وہ شاہی قلعے پر قابض ہو گئے تھے۔ اس لئے تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات کہی جا سکتی ہے انہی جگہوں کے قریب برطانوی فوج نے اپنے بیرک بنائے تھے اور یہاں سے اُن کی باقيات مل سکتی ہیں۔

ڈسپلے پر لگانے سے پہلے اس بات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا کہ ان توپوں کا بھاری بھرکم وجود سیاحوں کے لئے کسی قسم کی رکاوٹ کا سبب نہ بنے۔ اسی قسم کی دو توپیں دیوان عام اور ایک توپ موتی مسجد کے عقبی حصے کے باہر نصب ہیں، جو یہاں آنے والوں کی توجہ اپنی جانب مرکوز کرتی ہیں اور بچے ہوں یا نوجوان سب ان کے ساتھ یادگاری تصویریں بنوانا ضروری خیال کرتے ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

حوثیوں نے جنگ بندی کی فوری خلاف ورزی کردی، الحدیدہ میں گولہ باری

Share this on WhatsAppیمن میں ایران نواز حوثی باغیوں نے اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے