جماعت الدعوۃ کو فلاحی کام سے روکنے کی درخواست مسترد

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے جماعت الدعوۃ اور اس کی ذیلی شاخ ’فلاح انسانیت فاؤنڈیشن‘ کو کام سے روکنے سےمتعلق وفاقی حکومت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔وفاقی حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے خلاف عدالت عظمیٰ میں اپیل کی تھی کہ حتمی فیصلہ نہ آنے تک تنظیم اور اس کے اداروں کو کام کرنے سے روک دیا جائے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس منظور ملک کی سربراہی میں جسٹس سردار طارق کے ساتھ دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

وزارت داخلہ کی جانب سے عدالتِ عالیہ کے عبوری فیصلے کے خلاف دائر پٹیشن پر سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے پٹیشن خارج کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی اس کیس میں پہلے ہی ایک درخواست ہائی کورٹ میں التوا کا شکار ہے۔چند ماہ قبل جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کے خلاف بعض پابندیوں کے نتیجے میں انہوں نے حکومتی اقدامات کے خلاف پٹیشن دائر کی تھی جس پر ہائی کورٹ نے اپریل میں حکومت کو ’ہراساں‘ کرنے سے روک دیا اور حافظ سعید کو مزید کسی حکم تک اپنی ’قانونی فلاحی خدمات‘ جاری رکھنے کی اجازت دی تھی۔

اس حوالے سے جماعت الدعوہ کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات احمد ندیم نے ’بی بی سی ریکارڈ لندن: سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہماری جماعت نے کبھی ملکی قوانین کے برخلاف کوئی کام نہیں کیا اور نہ ہی کبھی قانون کو ہاتھ میں لیا ہے، حکومتی کی جانب سے ایسی درخواستیں بیرونی دباؤ کا نتیجہ ہیں‘‘۔بقول اُن کے، ’’حکومت اقوام متحدہ کی جانب سے کیے جانے والے بعض اقدامات کی وجہ سے ایسی درخواستیں دے رہی ہے۔ لیکن، ہمارا کہنا ہے کہ ہمارا پاکستان میں فلاحی کام کسی تعصب کے بغیر ہے اور ہم عام شہری کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہے ہیں۔ جب بھی ملک میں سیلاب یا کوئی بھی قدرتی آفت آئے فلاح انسانیت کے رضاکار بے لوث خدمات سرانجام دیتے ہیں۔‘‘۔

احمد ندیم کا کہنا تھا کہ اس درخواست کے باعث تھرپارکر اور دیگر کئی علاقوں میں ان کے رفاہی کام بری طرح متاثر ہوئے جو اب دوبارہ شروع کیے جائیں گے۔رواں برس فروری میں سابق صدرِ مملکت ممنون حسین نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 میں ترمیم کا آرڈیننس جاری کیا تھا جس کے تحت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے قرار دیئے جانے والی کالعدم تنظیمیں اور دہشت گرد افراد اب ملک میں بھی قابل گرفت ہوں گے۔

مذکورہ ترمیمی بل پر صدارتی دستخط کے بعد حافظ محمد سعید کی جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن سمیت الاختر ٹرسٹ اور الرشید ٹرسٹ بھی کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل ہوگئے تھے۔ یہ اقدامات ایف اے ٹی ایف کے اجلاس کے پس منظر میں کیے گئے ہیں، جو پاکستان کو دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کی امریکی قرارداد پر غور کر رہا ہے۔صدارتی آرڈیننس کے بعد کشمیر سمیت گلگت بلتستان میں جماعت الدعوۃ اور اس کے ذیلی اداروں کے تمام اثاثے ضبط کر لیے گئے اور اس حوالے سے بتایا گیا تھا کہ پنجاب میں تنظیم کے 148 اثاثے ضبط کیے گئے۔

حکومتی درخواست مسترد ہونے کے بعد امکان ہے کہ تنظیم کی سرگرمیاں بحال ہونگی اور ایف اے ٹی ایف کی جانب سے دی جانے والی ہدایات کے بعد ’گرے لسٹ‘ میں شامل پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے کا خدشہ بڑھ جائے گا۔

About BBC RECORD

Check Also

حوثیوں نے جنگ بندی کی فوری خلاف ورزی کردی، الحدیدہ میں گولہ باری

Share this on WhatsAppیمن میں ایران نواز حوثی باغیوں نے اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے