اسپین سعودی عرب کو لیزر گائیڈڈ بم دینے پر رضامند ہوگیا

میڈرڈ: اسپین کی حکومت نے سعودی عرب کو لیزر گائیڈڈ بم دینے پر دوبارہ رضا مندی کا اظہار کردیا۔ خبر رساں ادارے کے مطابق ہسپانوی وزیر خارجہ جوزپ بوریل نے کہا ہے کہ 2015ء میں طے پانے والے معاہدے کے تحت میڈرڈ حکومت 400 لیزر گائیڈڈ بم ریاض حکومت کو دینے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ کئی دنوں سے وزرا اور متعلقہ سرکاری حکام اس معاملے پر کام کررہے تھے اور ہتھیار فروخت کے مجاز کمیشن نے تین بار اس معاہدے پر نظرثانی بھی کی تاہم نتیجے میں کوئی ایسی وجہ سامنے نہیں آئی جس کے تحت معاہدہ منسوخ کیا جاتا۔
یہ بھی پڑھیں: اسپین نے سعودی عرب کو لیزر گائیڈڈ بم دینے سے انکار کردیا

جب وزیرخارجہ سے سوال کیا گیا کہ کیا انہیں اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ مذکورہ بم یمن میں شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال نہیں ہوں گے؟ تو انہوں نے گول مول جواب دیتے ہوئے کہا کہ لیزر گائیڈڈ بم اپنے ہدف کو انتہائی درست نشانہ بناتا ہے، یہ بم دیگر جدید ہتھیاروں جیسا نہیں کہ جس کے اندھا دھند استعمال سے سانحات کا سامنا کرنا پڑے اور ہم اس کی مذمت کرتے رہیں۔

واضح رہے کہ اسپین میں بننے والی نئی حکومت نے بموں کی فروخت کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پیشگی ادا کی گئی بموں کی رقم واپس کرنے پر غورشروع کردیا تھا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اسپین خلیجی ممالک کو فوجی ساز و سامان اور ہتھیار فروخت کرنے والا چوتھا بڑا ملک اور طویل عرصے سے سعودی عرب کا تجارتی اتحادی ہے تاہم ہسپانوی میڈیا کے مطابق سعودی عرب کی یمن سے جنگ پر اسپین کی نئی حکومت نے تشویش کا اظہار بھی کیا تھا

About BBC RECORD

Check Also

امریکا اور چین کے درمیان نئی معاشی جنگ چھڑ گئی

Share this on WhatsAppواشنگٹن: امریکا اور چین نے ایک دوسرے کی اشیائے صرف پر اب ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے