پاکستانی حکومت مدارس کا نصاب بدلنا چاہتی ہے

واشنگٹن : شدت پسندی میں اضافے کا ایک سبب بعض مدارس کے نصاب کو قرار دیا جاتا ہے۔ ماضی میں جنرل پرویز مشرف اور ان کے بعد آنے والی حکومتیں مدارس کا نصاب بدلنے کی تجویز پر غور کرتی رہی ہیں۔ یہ نکتہ نیشنل ایکشن پلان میں بھی شامل تھا۔ موجودہ حکومت اس تجویز کو عملی جامہ پہنانا چاہتی ہے۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے بی بی سی ریکارڈ لندن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کئی طرح کے تعلیمی ادارے اور نصاب موجود ہیں جن کی وجہ سے معاشرے میں تقسیم پیدا ہو رہی ہے۔ موجودہ حکومت چاہتی ہے کہ تمام تعلیمی اداروں میں بنیادی نصاب تعلیم ایک ہو جائے، سرکاری اسکولوں، پرائیویٹ تعلیمی اداروں اور مدارس کے طلبہ کو مختلف اقسام کی اسناد کے بجائے ایک جیسی ڈگری ملے۔

شفقت محمود نے کہا کہ بنیادی نصاب تعلیم ایک ہونے کے بعد بھی مدارس کو اپنی مرضی کے کورس پڑھانے کی اجازت ہو گی۔ وہ بچوں کو حسب روایت دینی تعلیم دے سکیں گے۔ حکومت اس سلسلے میں مدارس سمیت تمام حلقوں سے بات کرے گی۔ جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ کسی کو مدارس کا نصاب نہیں بدلنے دیں گے۔

جے یو آئی کے رہنما قاری عثمان نے اس کے جواب میں کہا کہ اسکولوں یونیورسٹیوں کا نصاب تبدیل کیا جا سکتا ہے لیکن مدارس کا نصاب ایسا نہیں کہ اسے زمانے کے ساتھ تبدیل کیا جائے۔ اس نصاب میں قرآن پاک کی تعلیم، احادیث اور تفسیر شامل ہوتی ہے۔ اسے کون بدل سکتا ہے؟

مرکزی جمعیت اہلحدیث کے پروفیسر ساجد میر سمجھتے ہیں کہ مدارس کے بنیادی نصاب کے ساتھ بعض جدید کورس شامل کیے جا سکتے ہیں۔ مدارس کے طلبہ کو انگریزی، ریاضی یا کمپیوٹر سائنس پڑھانے پر کسی کو اعتراض نہیں بلکہ بعض مدارس یہ کورس پڑھا بھی رہے ہیں لیکن دینی نصاب کو بدلنے کی مخالفت کی جائے گی۔

پاکستان علما کونسل کے حافظ طاہر اشرفی نے بتایا کہ مدارس کا نصاب تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ موجودہ نصاب میں جدید تعلیم شامل ہے۔ طلبہ کو نئے علوم پڑھائے جا رہے ہیں۔ جب حکومت اسکولوں اور مدارس کا ایک نصاب بنانا چاہے گی تو علما سے بات کرے گی۔ وقت سے پہلے خفا ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ لیکن اگر حکومت نے مدارس کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی تو پھر سب ایک ہو جائیں گے۔

ممتاز اسکالر علامہ احمد جاوید کا کہنا ہے کہ کسی مدرسے کا نصاب وحی کے ذریعے نازل نہیں ہوا۔ جیسے اسکولوں کالجوں کا نصاب بدلا جاتا ہے، مدارس کا نصاب بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس کا بدلنا خود تعلیم دین کے حق میں بہتر ہے۔ علم کہتے ہی اسے ہیں جس کے ذرائع بدلے جاتے رہیں۔ البتہ اس پر گفتگو ہو سکتی ہے کہ نصاب کی تبدیلی کا محرک کیا ہے۔ بظاہر اس کی مخالفت دینی حساسیت سے زیادہ طبقاتی بنیاد پر کی جاتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مدارس کے نصاب کا معاملہ حساس صورت اختیار کر گیا ہے۔ پی ٹی آئی اور مولانا فضل الرحمان میں سیاسی اختلاف کی وجہ سے اس میں شدت پیدا ہونے کا خدشہ ہے جس کی وجہ سے حکومت کی ایک مثبت کوشش ناکام ہو وسکتی ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

امریکا اور چین کے درمیان نئی معاشی جنگ چھڑ گئی

Share this on WhatsAppواشنگٹن: امریکا اور چین نے ایک دوسرے کی اشیائے صرف پر اب ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے