چینی قرضوں کی واپسی مستقبل قریب میں نہیں ہو گی، پاکستان

واشنگٹن: پاکستان کی وزارت منصوبہ بندی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاک۔چین اقتصادی راہداری منصوبوں کی وجہ سے پاکستان پر قرضوں کے بوجھ کے متعلق ظاہر کئے جانے والے خدشات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سی پیک منصوبوں کے لئے فنڈز اس مالیاتی پیکیج کا حصہ ہیں جو دونوں ملکوں کی حکومتی سطح پر فراہم کئے جارہے ہیں۔ ان قرضوں کی ادائیگی مستقبل قریب میں شروع نہیں ہو گی۔

خیال رہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو کہ چکے ہیں کہ آئی ایم ایف پاکستانی حکومت کو ئی ایسا بیل آؤٹ پیکیج نہ دے جس کے فنڈز چین کا قرضه ادا کرنے کے لئے استعمال ہوں۔

پاکستان کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کے مجموعی قرضوں میں بتدریج اضافے اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن کے چیلنج کے پیش نظر اسلام آباد کو ایک بار پھر آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑے گا۔

امریکی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے قمر عباس جعفری نے پاکستان کی وزارت خارجہ کے سابق مشیر اور ماہر معاشات ڈاکٹر اشفاق حسین اور امریکہ کے انسٹی ٹیوٹ آف پیس کے سینیر عہدیدار معید یوسف سے بات کی۔

About BBC RECORD

Check Also

انڈونیشیا میں زلزلہ، ہلاکتوں کی تعداد 387 ہو گئی

Share this on WhatsAppجکارتہ: انڈونیشی جزیرے لومبوک پر آنے والے زلزلے کے نتیجے میں ہونے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے