عیدالاضحٰی کی آمد کے ساتھ ہی کانگو وائرس کا خدشہ بڑھ گیا

کراچی : حکومتِ سندھ کے محکمۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ عیدالاضحیٰ سے قبل شہر میں مویشیوں کی خرید و فرخت بڑھنے کے سبب کراچی میں کانگو وائرس پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ شہر میں رواں سال کے ابتدائی سات ماہ کے دوران کانگو وائرس کے 30 سے زائد کیس رپورٹ ہوچکے ہیں جن میں سے اب تک کم از کم تین افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ صورتِ حال کو قابو میں رکھنے کے لیے محکمۂ صحت نے الرٹ جاری کردیا ہے جب کہ قربانی کے جانوروں کی خریداری کے لیے مویشی منڈی جانے والے افراد کے لیے حکومت نے ایک ایڈوائزی بھی جاری کی ہے۔

عیدالاضحیٰ کے سلسلے میں شہر میں سپرہائی وے، لانڈھی، ملیر اور شاہراہِ فیصل کے قریب بڑی مویشی منڈیاں قائم کی گئی ہیں۔
شہر کی مرکزی مویشی منڈی ہر سال کی طرح اس بار بھی سپر ہائی وے پر لگی ہے لیکن سستے جانور خرید یا پال کر انہیں مہنگے داموں فروخت کرنے کے لالچ میں شہر کے تقریباً تمام چھوٹے بڑے علاقوں اور گلی محلوں تک میں چھوٹی چھوٹی منڈیاں لگادی جاتی ہیں جن پر قانوناً پابندی عائد ہے۔

ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ ان چھوٹی اور غیر قانونی منڈیوں کے قیام سے کانگو وائرس پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے اور شہر ‘ہائی رسک’ پر ہے۔’کانگو’ سے بچاؤ کے لیے جاری محکمۂ صحت کی ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ عوام مویشی منڈی جانے سے قبل احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ کانگو وائرس جان لیوا مرض ہے لیکن اس سے بچاؤ انتہائی آسان ہے۔ایڈوائزری کے مطابق منڈی جانے والے افراد ہلکے رنگ کے کھلے کپڑے پہنیں اور جسم کو مکمل طور پر ڈھانپ کر رکھیں۔

‘پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن’ کے ایک عہدیدار ڈاکٹر قیصر سجاد نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ کانگو وائرس جانوروں کی جلد پر رہنے والی چیچڑی کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ڈاکٹر قیصر سجاد کے مطابق چیچڑی کے جانوروں سے انسانوں میں پھیلنے سے روکنے کے لیے مویشیوں کو چھوتے وقت دستانے استعمال کیے جائیں۔انہوں کہا کہ شہریوں کو چاہیے کہ منڈی جاتے وقت پورا جسم ڈھانپ کر رکھیں، آدھی آستینوں والی قمیصیں یا ٹی شرٹ ہرگز نہ پہنیں۔ جرابیں اور بند جوتوں کا استعمال کریں اور گھر واپس آکر اچھی طرح نہائیں اور فوری کپڑے بدلیں۔

بی بی سی ریکارڈ لندن: سے گفتگو میں ایک اور ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کا کہنا تھا کہ کانگو ایک وائرل ہیمریجک وائرس ہے جو جانوروں سے انسانو ں کو لگتا ہے۔ان کے بقول چونکہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر ہر گھر میں قربانی کے جانور لائے جاتے ہیں اور مردوں کے ساتھ ساتھ گھر میں موجود بچے یہاں تک کہ خواتین بھی ان جانوروں کو بلا احتیاط چھوتی ہیں اس لیے کانگو وائرس کی منتقلی کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ڈاکٹر نسیم کے بقول احتیاط اور جانوروں سے دوری اس مرض سے بچاؤ کی پہلی شرط ہے۔ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ کانگو وائرس سے متاثرہ جانور کو ذبح کرنے کے دوران یا فوراً بعد اس کے خون سے بچنا بھی لازمی ہے۔ خون صحت مند انسان کے جسم پر لگنے سے بھی وائرس انسانوں میں منتقل ہوسکتا ہے۔


چچڑی کے کاٹنے کی صورت میں مرض کی علامات زیادہ سے زیادہ نو دن میں ظاہر ہوجاتی ہیں۔ان ابتدائی علامات میں فوری تیز بخار، چکر آنا، سر، کمر یا جسم کے دیگر حصوں میں درد ہونا اور خون بہنا شامل ہے۔کراچی کے نزدیک سپر ہائی وے پر قائم مرکزی مویشی منڈی کے منتظمین نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ اب تک تقریباً ایک لاکھ قربانی کے جانور منڈی پہنچ چکے ہیں جب کہ مجموعی طور پر شہر میں ہر عیدالاضحیٰ پر تین لاکھ سے زائد جانور فروخت کے لیے لائے جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مویشیوں کا اتنی بڑی تعداد میں بیک وقت ایک شہر میں جمع ہونا بذاتِ خود کسی رسک سے کم نہیں۔ اس رسک کو کم کرنے کے لے حکومت کی حکمتِ عملی کیا ہے؟ اس بارے میں صوبائی محکمۂ صحت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر طاہر عزیز نے بتایا ہے کہ وائرس کی منتقلی کے خدشے کو ختم کرنے کے لیے منڈیوں میں میڈیکل کیمپ قائم کیے جا رہے ہیں جن میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر اور ویٹرنری ڈاکٹر جانوروں کا معائنہ کریں گے جب کہ بیمار جانوروں کے علاج اور دیکھ بھال کے لیے بھی ڈاکٹر کیمپس میں ہمہ وقت موجود ہوں گے۔

کمشنر کراچی محمد صالح فاروقی کے مطابق منڈی کے انتظامات اور مویشیوں میں بیماریوں سے متعلق شکایات دور کرنے کے لیے منڈی میں ہی ایک کنٹرول رو م بھی قائم کیا گیا ہے اور مرکزی منڈی میں جانوروں اور خریداروں کو بیما ری سے بچانے کے لیے فیو میگیشن سمیت دیگر اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

پاکستان بھر میں جشن آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا

Share this on WhatsAppپاکستان بھر میں آج 71 واں جشن آزادی ملی جوش و جذبے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے