A Syrian child lokks through the windows of a bus as displaced people from the Quneitra province wait at the Murak crossing point to be carried in the provinces of Idlib and Aleppo, in Murak, northwestern Syria, on July 21, 2018. The transfers come under a surrender deal agreed this week between Russia and Syrian rebels in Quneitra province that will see the sensitive zone fall back under state control. Rebels will hand over territory they control in Quneitra and the neighbouring buffer zone with the Israeli-occupied Golan, a war monitor and a rebel source told AFP. / AFP PHOTO / OMAR HAJ KADOUR

قنیطرہ سے انخلاء: 2800 جنگجو اور شہری حماہ صوبے پہنچ گئے

شام میں قنیطرہ صوبے سے منتقل کیے جانے والے سیکڑوں جنگجوؤں اور شہریوں کو ہفتے کے روز ملک کے شمال مغرب میں اپوزیشن گروپوں کے زیر کنٹرول اراضی میں پہنچا دیا گیا۔ یہ بات فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے نمائندے اور شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کی جانب سے بتائی گئی۔اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کے متوازی صوبے قنیطرہ سے ان افراد کا انخلاء اُس معاہدے کے تحت عمل میں آیا ہے جو شامی حکومت کے حلیف روس اور علاقے میں موجود اپوزیشن گروپوں کے بیچ طے پایا۔

معاہدے کے تحت لڑائی روکے جانے کے مقابل گروپوں کو عملی طور پر ہتھیار ڈالنا ہے جب کہ شامی فوج کو اُس پوزیشن پر واپس لوٹ جانا ہے جہاں ہو 2011ء سے پہلے تھی۔شامی انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق 2800 جنگجوؤں اور شہریوں پر مشتمل پہلی کھیپ ہفتے کی صبح حماہ صوبے کے شمالی دیہی علاقے میں مورک کی گزر گاہ پر پہنچی۔

مورک گزر گاہ پر موجود فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے نمائندے نے بتایا ہے کہ اس نے 50 بسوں کو پہنچتے ہوئے دیکھا جن میں جنگجو اور ان کے اہل خانہ سوار تھے۔مورک پہنچنے پر تمام افراد دیگر بسوں میں سوار ہوئے جن کو ایک غیر سرکاری مقامی تنظیم نے کرائے پر حاصل کیا تھا تا کہ ان افراد کو ادلب اور حلب صوبوں میں عارضی استقبالیہ کیمپوں میں منتقل کیا جا سکے۔

المرصد کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن کے مطابق اس پہلی کھیپ میں نصف سے زیادہ تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ رامی کا کہنا ہے کہ توقع ہے کہ انخلاء کا عمل جاری رہے گا اور قنیطرہ معاہدے کو مسترد کرنے والوں کے انخلاء کے لیے دوسری کھیپ بھی ہو گی۔

About BBC RECORD

Check Also

صدر ٹرمپ عوام کو منقسم کرنے کی کوشش میں ہیں، جیمز میٹس

Share this on WhatsAppسابق امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے الزام عائد کر دیا ہے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے