کم بہت ’ذہین‘ ہیں وائٹ ہاؤس بلاؤں گا، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن بہت ذہین ہیں اور وہ انہیں وائٹ ہاؤس مدعو کریں گے۔ انہوں نے یہ بات شمالی کوریا کے رہنما سے تاریخی مصافحے اور ملاقات کے بعد کہی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ کوریائی خطے میں جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کا آغاز ’بہت جلد‘ ہو جائے گا۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں ایک دستاویز پر دستخط بھی کیے گئے ہیں، تاہم اس دستاویز میں درج مواد سے متعلق کوئی تفصیل فی الحال نہیں بتائی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک ہی ملاقات میں اور باقاعدہ سفارتی مذاکرات یا عمل کے بغیر ہی بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ کسی برسر اقتدار امریکی صدر کی شمالی کوریائی رہنما سے ملاقات کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ اس ملاقات کے بعد شمالی کوریا روانگی سے قبل کم جونگ ان نے کہا، ’’یہ ملاقات نہایت تاریخی تھی اور دونوں ممالک نے ماضی کو پیچھے چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب دنیا ایک بڑی تبدیلی دیکھے گی۔‘‘

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے کم جونگ ان کے ساتھ ’ایک خصوصی ربط‘ پیدا کر لیا ہے اور اس لیے اب شمالی کوریا ایک بالکل مختلف ملک ہو گا۔ٹرمپ نے کہا، ’’لوگ اس سے متاثر ہوں گے، لوگ اس سے خوش ہوں گے اور ہم دنیا کے ایک انتہائی خطرناک مسئلے کو حل کر رہے ہیں۔‘‘ڈونلڈ ٹرمپ سے جب یہ پوچھا گیا کہ آیا وہ کم جونگ اُن کو وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت دیں گے، تو ٹرمپ کا کہنا تھا، ’’بالکل دوں گا۔‘‘انہوں نے کہا کہ کم جونگ اُن ایک ذہین اور سخت مذاکرات کار ہیں۔ ’’میں نے محسوس کیا کہ وہ بہت باصلاحیت ہیں۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ اپنے ملک سے بے حد محبت کرتے ہیں۔‘‘

روئٹرز کے مطابق چند ماہ قبل تک دونوں ممالک کے درمیان انتہائی شدید بیانات کے تبادے اور دونوں رہنماؤں کے درمیان ’ہتک آمیز جملوں‘ تک کا استعمال دیکھا گیا تھا اور یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس شدید کشیدگی کا خاتمہ اتنا تیزی سے ہو سکتا ہے یا دونوں رہنماؤں کی بالمشافہ ملاقات کا کوئی امکان ہے۔

دوسری جانب جنوبی کوریا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے درمیان ملاقات کو ’نہایت خوش آئند‘ قرار دیا ہے۔ جنوبی کوریائی میڈیا اسے ’صدی کی سب سے بڑی مکالمت‘ قرار دے رہا ہے۔ جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس ملاقات کے ذریعے خطے سے جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے اور امن کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔ واضح رہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کے سربراہان کے درمیان دو مرتبہ ملاقات ہوئی، جب کہ ان میں سے ایک انتہائی غیرمتوقع بھی ہوئی تھی۔

About BBC RECORD

Check Also

‘داعش بدستور افغان امن اور پاکستان کے لیے بڑا خطرہ’

Share this on WhatsApp اسلام آباد: افغانستان میں گزشتہ ہفتے ایک امریکی ڈرون حملے میں ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے