عید سے پہلے پشتون تحفظ تحریک کے تمام قیدی چھوڑنے پر جرگے کا اتفاق

پشاور : پشتون تحفظ تحریک اور حکومتی جرگے کے درمیان پچھلے دد دنوں سے جاری مذاكرات کے بعد دونوں فریقین نے منگل کے روز سابق ممبر قومی اسمبلی الحاج شاہ گل کی پشاور میں واقع رہائش گا پر ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی۔
میڈیا کو بتابا گیا کہ شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور اسلام آباد میں حراست میں لیے گئے پی ٹی ایم کے کارکنوں کو دو دنوں میں رہا کیا جائے گا ۔جب کہ بات اگلا دور 22جون کو ہوگا ۔ اور یہ کہ عید کے تیسرے دن شمالی وزیرستان کے سیاحتی مقام رزمک میں پی ٹی ایم کے جانب سے منعقد کیے جانے والے جلسے کو ملتوی کردیا گیا ہے۔حکومتی جرگے راہنما ملک خان مرجا ن وزیر نے بی بی سی ریکارڈ لندن: سے بات کرتے ہوئے کہا آج پی ٹی ایم اور حکومتی جرگے کے درمیان بات چیت کا آٹھواں دور مکمل ہوا۔

اُنہوں نے کہا چند دن پہلے جنوبی وزیرستان کے مرکزی شہر وانا اور شمالی وزیرستان کے قصبے میر علی میں نا خوشگوار واقعات کے وجہ سے بات چیت کے عمل کو کافی نقصان پہنچا تھا، لیکن اس کے باوجود بھی جرگے نے اپنی کوششیں جاری رکھیں اور پچھلے دو دنوں میں مذاكرات کا عمل جاری رہا جس میں پی ٹی ایم کے جانب سے علی وزیر، محسن دواڑ اور عبداللہ نیگیال جبکہ حکومتی کے نمائندہ جرگے کے طرف سے سیاسی راہنما اجمل وزیر اور خیبر پختون خوا کے سابق وزیر شاہ فرمان شریک ہوئے ۔

خان مرجان نے ایک سوال کے جوا ب میں کہا ہے کہ دونوں فریقین پشتون تحفظ تحریک کے شمالی وزیرستان کے قصبے زرمک میں عید الفطر کے تیسرے دن منعقد کیے جانے والے جلسے کو منسوخ کرنے پر متفق ہو گئے ہیں اور آئندہ دو دنوں کے اندر پی ٹی ایم کے تمام گرفتار کارکنوں کے رہائی کے لئے جرگے کے درخواست پر حکومتی ادارے سے اقدامات کریں گے جبکہ عید لفطر کے بعد 22جون کو مذاكرات کا اگلا دور ہو گا۔پی ٹی ایم کے راہنما محسن دواڑ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ مذاكرات کا عمل جاری رہے گا کیونکہ تمام مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم نے پہلے بھی اور آج بھی جرگے کے تمام مطالبات مان لیے ہے تاکہ پشتون قوم کو درپیش مسائل کے حل اچھے طریقے سے نکل سکے۔اُنہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کو پرامن افراد کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز کرنا چاہیئے کیونکہ اس طرح کی کارروائیوں سے مسائل میں مزید اضافہ ہو گا۔اُنہوں بتایا کہ عید کے تیسرے دن پی ٹی ایم کے جانب سے منعقد ہونے والا جلسہ ملتوی کیا جاتا ہے او ر جرگے کے ذریعے حکومتی اداروں سے اپیل کی جاتی ہے اُن کے تمام گرفتار کارکنوں کو جلدا ز جلد رہا کیا جائے تاکہ بات چیت کو بہتر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

حکومتی جرگے اور پشتون تحفظ تحریک کے درمیان بات چیت کا آٹھواں دور ایک ایسے وقت میں مکمل ہوا جب جنوبی وزیرستان میں پی ٹی ایم کے اہم راہنما علی وزیر اور اُن کے ساتھیوں کے خلاف حکومتی حمایت یافتہ امن کمیٹی کے مسلح افراد نے کارروائی کی تھی، جس میں تین افراد مارے گئے، جبکہ 30 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔ دوسری جانب شمالی وزیرستان کے شہر میر علی میں ٹارگٹ کلنگ کے خلاف جاری دھرنے میں شریک افراد پر سیکیورٹی فورسز کے مسلح کارروائی کے بعد محسن دواڑ کے شمالی وزیرستان اور علی وزیر کے جنوبی وزیرستان میں داخلے پر تین ماہ کے لئے پابندی لگا دی گئی تھی ۔ دونوں راہنما 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں آزاد اُمیدوار کے حیثیت سے حصہ لے رہے ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

ڈاکٹر عافیہ کا نام ایک مرتبہ پھر پاکستانی خبروں میں

Share this on WhatsAppاسلام آباد: امریکہ میں قید پاکستانی خاتون شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے