ملتان: جرائم کی شرح میں اضافہ، پولیس تحفظ فراہم کرنے میں ناکام

ملتان میں جرائم کی بڑھتی وارداتیں شہریوں کیلئے درد سر بن گئیں، گزشتہ 4 ماہ کے دوران شہر میں سینکڑوں وارداتیں ہوئیں، جس کے بعد عوام کا پولیس پر سے اعتبار اٹھتا جا رہا ہے۔

ملتان میں جرائم کی شرح کو کنٹرول کرنے اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے 32 تھانوں میں 45 سو پولیس اہلکار تعینات ہیں، اس کے باوجود پولیس کی کارکردگی تسلی بخش نہیں جس کے باعث جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ چار ماہ کے دوران شہر میں چوری ڈکیتی اور راہزنی کی 511 وارداتیں ہوئیں۔ 27 افراد قتل ہوئے اور 6 افراد کو تاوان کیلئے اغوا کیا گیا، تاہم افسران کے مطابق نفری کی کمی جرائم میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔

شہر اور مارکیٹس میں ڈولفن فورس کی تعیناتی کے باوجود گلگشت اور گلشن مارکیٹ میں ڈکیتی کی درجنوں وارداتیں ہوئیں، جس پر تاجروں نے بھی مظاہروں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ تاہم پولیس کے سینکڑوں جوان شہریوں کے تحفظ کی بجائے وی آئی پیز ڈیوٹیاں دینے میں مصروف ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

موجودہ حکومت صفائی،شجرکاری اور تجاوزات کے خلاف بلا امتیاز آپریشن کررہی ہے: رانا گلزار احمد

Share this on WhatsApp۔حکومت پنجاب کی ہدایت پر ڈیرہ غازیخان میں کلین اینڈ گرین پنجاب ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے