تمام مسلم اقوام فلسطین کے ساتھ کھڑی ہو جائیں، ترکی

ترکی نے مسلمان اقوام سے کہا ہے کہ وہ فلسطینوں کے ساتھ متحد ہو کر کھڑی ہو جائیں اور دیگر ممالک کو تل ابیب میں قائم اپنے سفارت خانے امریکی پیروی میں یروشلم منتقل ہونے سے روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ استنبول میں مسلمان ممالک کے اپنے ہم منصبوں سے خطاب کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ مولود چاؤش اولو نے کہا کہ امریکا کے ’’غیر قانونی‘‘ فیصلے سے اسرائیل کی ہمت افزائی ہوئی کہ وہ ’’معصوم فلسطینیوں کا وحشیانہ قتل کرے‘‘۔

ترکی اور اسرائیل اس وقت ’اینٹ کا جواب پتھر‘ سے دینے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے سفیروں کو ملک چھوڑنے کے احکامات دیے ہیں اور دونوں ممالک میں لفظوں کی ’شدید جنگ‘ جاری ہے۔ ترکی اس وقت 57 اسلامی ممالک کی تنظیم ’’آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن‘‘ (OIC) کا صدر ملک ہے۔ ترکی نے رواں ہفتے اسرائیل کی طرف سے غزہ سرحد پر 60 فلسطینیوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کیے جانے کے بعد اس تنظیم کا ایک ایمرجنسی اجلاس بلایا تھا۔

اسلامی تعاون کی اس تنظیم کے وزرائے خارجہ کے استنبول میں جاری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چاؤش اولو کا کہنا تھا، ’’ہمیں دیگر ممالک کو امریکی مثال کی پیروی کرنے سے روکنا ہو گا‘‘۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ترک وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ او آئی سی کی طرف سے سربراہی اجلاس کے اعلامیے میں فلسطین کے مسئلے کو اجاگر کیا جائے گا اور ’’متفقہ طور پر آواز بلند کی جائے گی کہ ہم مقدس شہر کی تاریخی حیثیت میں رد و بدل کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘

ترک وزیر خارجہ مولود چاؤش اولو نے کہا کہ امریکا کے ’’غیر قانونی‘‘ فیصلے سے اسرائیل کی ہمت افزائی ہوئی کہ وہ ’’معصوم فلسطینیوں کا وحشیانہ قتل کرے‘‘۔امید کی جا رہی ہے کہ آج جمعہ کی شب او آئی سی کے سربراہی اجلاس سے ترک صدر رجب طیب ایردوآن، اردن کے شاہ عبداللہ ثانی اور فلسطینی وزیر اعظم رامی حمداللہ خطاب کریں گے۔ ایرانی صدر حسن روحانی بھی اس اجلاس میں شریک ہوں گے۔

About BBC RECORD

Check Also

ترکی کا امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ

Share this on WhatsAppانقرہ: صدر طیب اردگان نے ترکی پر عائد اقتصادی پابندیوں کے جواب ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے