’تشدد میں ملوث‘ سی آئی اے کی نئی سربراہ جینا ہاسپل کون ہیں؟

امریکی سینیٹ نے ملکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی پہلی خاتون سربراہ کے طور پر جینا ہاسپل کی تقرری کی توثیق کر دی ہے۔ مشتبہ دہشت گردوں پر تشدد کے ایک خفیہ امریکی پروگرام کا حصہ رہنے والی یہ تجربہ کار انٹیلیجنس اہلکار کون ہیں؟ جینا ہاسپل کو امریکا کی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی یا سی آئی اے کی نئی اور پہلی خاتون ڈائریکٹر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نامزد کیا تھا، جن کی تقرری کی واشنگٹن میں امریکی سینیٹ نے جمعرات سترہ مئی کی شام اکثریتی رائے سے توثیق بھی کر دی۔

جینا ہاسپل کی اس عہدے پر نامزدگی کی سینیٹ کے 54 ارکان نے حمایت اور 45 نے مخالفت کی جبکہ ان کی تقرری کی توثیق کے لیے 100 رکنی سینیٹ میں محض سادہ اکثریت یعنی 51 ووٹ درکار تھے۔ تجربہ کار ریپبلکن سینیٹر جان میکین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا کیونکہ وہ واشنگٹن سے باہر اپنے سرطان کے مرض کا علاج کروا رہے ہیں۔ جان میکین کے بارے میں اہم بات یہ ہے کہ وہ ویت نام کی جنگ کے دوران خود بھی قیدی رہ چکے ہیں، جن پر دوران قید تشدد بھی کیا گیا تھا۔ اسی پس منظر میں انہوں نے سینیٹ میں اپنے ساتھی ارکان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ جینا ہاسپل کی نامزدگی کو مسترد کر دیں کیونکہ وہ سی آئی اے کی ایک اعلیٰ اہلکار کے طور پر زیر حراست مشتبہ دہشت گردوں پر تشدد کے ایک خفیہ پروگرام کا اہم حصہ رہی ہیں۔

جینا ہاسپل کے حوالے سے یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں کہ وہ 2002ء میں تھائی لینڈ میں سی آئی اے کی اسٹیشن چیف تھیں۔ ان کی سربراہی میں سی آئی اے وہاں ایک ایسا خفیہ مرکز یا ’بلیک سائٹ‘ چلایا کرتی تھی، جس میں مشتبہ عسکریت پسندوں سے تفتیش کے دوران ان کے خلاف واٹر بورڈنگ سمیت کئی طرح کے پرتشدد طریقے استعمال کیے جاتے تھے۔ یہ ’بیلک سائٹ‘ امریکا پر 11 ستمبر 2001ء کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد قائم کی گئی تھی۔ مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کے دوران ان پرتشدد طریقہ ہائے تفتیش کے استعمال کی تب ویڈیو ریکارڈنگز بھی تیار کی گئی تھیں، جو بعد میں جینا ہاسپل کی ملی بھگت سے تلف بھی کر دی گئی تھیں۔

یہی وجہ ہے کہ امریکی سینیٹ میں ہاسپل کی نامزدگی کی توثیق سے قبل ارکان سینیٹ کی نمائندہ ایک کمیٹی نے ان سے جو سوالات پوچھے، ان میں یہ بات بھی شامل تھی کہ آیا وہ اس بات کا عہد کرتی ہیں کہ ان کی سربراہی میں یہ امریکی ایجنسی واٹر بورڈنگ سمیت تفتیش کے پرتشدد طریقوں میں سے کچھ بھی دوبارہ استعمال نہیں کرے گی۔ امریکا میں داخلی سیاسی اور سماجی طور پر جینا ہاسپل کی سی آئی اے کی ڈائریکٹر کے طور پر تقرری کی اس توثیق پر کس طرح کی تنقید کی جا رہی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ امریکا کی شہری آزادیوں کی تنظیم سول لبرٹیز یونین یا ACLU نے ہاسپل کی ان کے اس عہدے پر تقرری کو امریکی تاریخ پر ایک ’سیاہ دھبے‘ کا نام دیا ہے۔

اے سی ایل یو کے ایک مرکزی عہدیدار کرسٹوفر اینڈرز نے کہا، ’’یہ ہماری جمہوریت کی بھرپور تذلیل ہے کہ (جینا ہاسپل کی تقرری کی توثیق کے حوالے سے) امریکی سینیٹرز شفافیت اور احتساب کے عمل سے متعلق اپنے فرائض کار انجام دینے میں ناکام رہے ہیں۔‘‘

ہالینڈ کی نوجوان خاتون ماتا ہری نے 1910ء کے عشرے میں پیرس میں ’برہنہ رقاصہ‘ کے طور پر کیریئر بنایا۔ ماتا ہری کی رسائی فرانسیسی معاشرے کی مقتدر شخصیات تک بھی تھی اور اس کے فوجی افسروں اور سایستدانوں کے ساتھ ’تعلقات‘ تھے۔ اسی بناء پر جرمن خفیہ ادارے نے اسے جاسوسہ بنایا۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد فرانسیسی خفیہ ادارے نے بھی اسے اپنے لیے بطور جاسوسہ بھرتی کرنے کی کوشش کی۔ یہ پیشکش قبول کرنے پر وہ پکڑی گئی۔اے سی ایل یو نے اس بارے میں اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا، ’’جینا ہاسپل نے سمندر پار کس کس طرح کی پرتشدد کارروائیوں کی نگرانی کی: ننگے یا نیم برہنہ زیر حراست افراد کو کئی کئی دنوں تک زنجیریں پہنا کر چھتوں سے لٹکایا گیا، انہیں اٹھا اٹھا کر دیواروں پر پٹخا جاتا رہا، انہیں واٹر بورڈنگ کے ذریعے یہ خوفناک احساس دلایا گیا کہ جیسے وہ ڈوب رہے تھے اور انہیں مسلسل خوراک اور نیند سے محروم رکھا گیا۔‘‘

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی عہدیدار لارا پِٹّر کے الفاظ میں، ’’جینا ہاسپل کی ان کے نئے عہدے پر توثیق امریکا کی اس قابل مذمت ناکامی کا ایک ضمنی نتیجہ ہے کہ یہ ملک یہ تسلیم کرنے میں ناکام رہا ہے کہ سی آئی اے کی طرف سے کیا جانے والا تشدد ایک جرم تھا۔‘‘امریکی صدر ٹرمپ نے جینا ہاسپل کو دو ماہ قبل مارچ میں اس وقت سی آئی اے کی ڈپٹی ڈائریکٹر نامزد کیا تھا، جب اس خفیہ ادارے کے اس وقت کے سربراہ کو نیا ملکی وزیر خارجہ نامزد کر دیا گیا تھا۔ تب سے اب تک وہ سی آئی اے کی قائم مقام سربراہ کے طور پر کام کر رہی تھیں اور اب ان کی اس عہدے پر مستقل تعیناتی کی توثیق بھی کر دی گئی ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی مستعفی ہونے کی دھمکی

Share this on WhatsAppلاہور : چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے وکلا کی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے