بچوں سے جنسی زیادتیاں: چلی کے تمام 34 بشپس استعفوں پر تیار

کیتھولک مسیحیوں کے کلیسائے روم کی تاریخ میں شاذ و نادر نظر آنے والی ایک پیش رفت میں بچوں سے جنسی زیادتیوں کے ایک بہت بڑے اسکینڈل کی وجہ سے چلی کے تمام چونتیس بشپس نے پاپائے روم کو اپنے استعفوں کی پیشکش کر دی ہے۔ جنوبی امریکی ریاست چلی میں کیتھولک چرچ کی کئی انتہائی اعلیٰ شخصیات پر الزام ہے کہ انہوں نے اس ملک میں کلیسائی اہلکاروں کی طرف سے بچو‌ں سے جنسی زیادتیوں کے واقعات پر پردہ ڈالنے کی کوششیں کی تھیں۔ اس پر پاپائے روم فرانسس نے چلی کے ان تین درجن کے قریب بشپس کو ایک تین روزہ کانفرنس کے لیے ویٹیکن میں طلب بھی کر لیا تھا۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق چلی میں بچوں سے جنسی زیادتی کے مرتکب پادریوں کے مبینہ جرائم اور ان پر پردہ ڈالنے کی دانستہ لیکن مجرمانہ کوششوں کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد چلی کی بشپس کانفرنس کے تمام 34 ارکان نے جمعہ 18 مئی کو پوپ فرانسس کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کی پیشکش کر دی۔ اس بشپس کانفرنس کی طرف سے ویٹیکن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا گیا، ’’تمام بشپس اپنی اپنی ذمے داریوں کو اس وجہ سے واپس پاپائے روم کے حوالے کرنے پر تیار ہیں کہ وہ ہم میں سے ہر ایک کے بارے میں جو بھی آزادانہ فیصلہ کرنا چاہیں، کر سکیں۔‘‘

ویٹیکن سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق پاپائے روم اب یا تو استعفوں کی یہ تمام پیشکشیں فرداﹰ فرداﹰ قبول یا مسترد کر سکتے ہیں یا وہ اس بارے میں اپنا فیصلہ مؤخر بھی کر سکتے ہیں۔ چلی کے ان قریب تین درجن بشپس نے مزید کہا، ’’ہم اپنی ان بہت سنجیدہ غلطیوں اور کوتاہیوں کے لیے (جنسی زیادتیوں کا نشانہ بننے والے) متاثرین، ان کے اہل خانہ، پاپائے روم اور بطور ملک چلی کے عوام سے اس وجہ سے انہیں پہنچنے والی تکلیف پر معافی کے طلب گار ہیں۔‘‘

نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق چلی کی جن 34 انتہائی اعلیٰ کلیسائی شخصیات نے بچوں سے جنسی زیادتیوں کے بہت بڑے اسکینڈل کی وجہ سے اپنے استعفوں کی پیشکش کی ہے، ان میں سے 31 بشپ ایسے ہیں، جو ابھی تک اپنی ذمے داریاں انجام دے رہے ہیں جبکہ باقی تین بشپ ریٹائرڈ ہیں۔ اگر پوپ فرانسس نے واقعی ان بشپس کے استعفے منظور کر لیے، تو کلیسائے روم کی تاریخ میں یہ بشپس کی سطح کے مذہبی عہدیداروں کے وسیع پیمانے پر استعفوں کا اپنی نوعیت کا آج تک کا اولین واقعہ ہو گا۔

چلی میں کیتھولک کلیسا کی انتہائی اعلیٰ شخصیات کی طرف سے بچوں سے جنسی زیادتیوں کے اس وسیع تر اسکینڈل کی ایک مرکزی شخصیت خوآن باروس نامی ایک بشپ بھی ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ نہ صرف ایسے بہت سے جنسی جرائم کے گواہ بھی تھے بلکہ انہوں نے ان کے مرتکب کلیسائی عہدیداروں کو بچانے کے لیے ان زیادتیوں کو نظر انداز بھی کیا تھا۔

آج جمعہ 18 مئی کو ہی چلی کے ایک ٹی وی چینل نے 2,300 صفحات پر مشتمل ایک ایسی رپورٹ بھی جاری کر دی، جو برس ہا برس تک چلی میں بچوں سے ان جنسی زیادتیوں سے متعلق ویٹیکن کے اپنے تفتیشی اہلکاروں نے طویل چھان بین کے بعد تیار کی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق پوپ فرانسس نے اس وجہ سے چلی میں اعلیٰ کلیسائی انتظامیہ پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے کہ وہ نہ صرف بچوں کے تحفظ میں ناکام رہی بلکہ اس نے ایسے جرائم کی چھان بین کرنے یا کرانے کی تکلیف بھی نہین کی تھی۔

About BBC RECORD

Check Also

چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی مستعفی ہونے کی دھمکی

Share this on WhatsAppلاہور : چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے وکلا کی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے