روس کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ، اسلام آباد ماسکو کے قریب

پاکستان میں کئی سیاسی تجزیہ نگاروں اور بین الاقوامی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ اسلام آباد کی ماسکو سے بڑھتی ہوئی قربت اس بات کی دلیل ہے کہ روس نہ صرف مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں اپنا اثر ورسوخ بڑھا رہا ہے بلکہ جنوبی ایشیا کے ممالک بھی روس سے تعلقات بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ مشکل میں گھرے پاکستان نے امریکی دباؤ سے بچنے کے لیے ماسکو کا رخ کر لیا ہے۔ پاکستان کے وزیرِ خارجہ خواجہ آصف دنیا کی دوسری عالمی طاقت کے دارالحکومت پہنچ گئے ہیں۔

اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہء بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ڈاکڑ ظفر جسپا ل کا کہنا ہے کہ روس کا خطے میں اثر ورسوخ بڑھ رہا ہے اور وہ اپنا کھویا ہوا عالمی مقام حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ’’پاکستان اور روس کے مفادات یکجا ہو رہے ہیں کیونکہ تحریک طالبان پاکستان، جس کے دہشت گرد افغانستان میں موجود ہیں، وہ نہ صرف پاکستان کے لیے خطرہ ہے بلکہ طالبان میں موجود چیچن اور ازبک روس اور وسطی ایشیا کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ تو روس اس حوالے سے پاکستان کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ اس نے ہمیں ہیلی کاپڑز اور دوسرا عسکری سامان دیا ہے، جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے روس کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں بھی کی ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی غمازی کرتا ہے۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’شام میں روس کے فوجی اقدامات نے ویسٹ ایشیا میں ماسکو کے لیے جگہ پیدا کر دی ہے اوراب اس خطے میں صرف امریکا ہی ایک طاقت نہیں بلکہ کئی ممالک اب روس کی طرف بھی دیکھ رہے ہیں۔‘‘

معروف دفاعی تجزیہ نگار جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کے خیال میں روس امریکا مخالف ممالک کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے، ’’روس نے شام کی حمایت کر کے اس جنگ زدہ ملک کا نقشہ بدل دیا اور وہ ملک جہاں داعش کے دہشت گرد دندناتے پھر رہے تھے، وہ اب شکست سے دوچار ہو چکے ہیں۔ یہ شکست روس، ایران اور حزب اللہ کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ اب روس لبنان میں گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے، جہاں ایران اور حزب اللہ کا بہت اثر ورسوخ ہے۔ لہذا وہ ایران اور حزب اللہ کی مدد سے وہاں بھی اثر و رسوخ حاصل کرے گا اور خطے میں امریکی خارجہ پالیسی کے مقاصد کو شکست دینے کی کوشش کرے گا۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’پاکستان سمجھتا ہے کہ امریکا افغانستان میں استحکام قائم کرنا نہیں چاہتا اور یہ صرف اسلام آباد کا ہی خیال نہیں ہے بلکہ تہران، بیجنگ، انقرہ اور ماسکو بھی اس خیال کے حامی ہیں۔ تو خطے کے یہ ممالک افغانستان میں امن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تا کہ پورے علاقے میں معاشی طریقے ممکن ہو سکے۔ جب کہ امریکا اور بھارت اس استحکام کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ پاکستان کو یقین ہے کہ امریکا اب افغانستان میں استحکام نہیں چاہتا، اس لیے اب ہم روس، ایران اور چین کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ خواجہ آصف کے دورے کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔‘‘

لیکن پنجاب یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکڑ عمار جان کے خیال میں ماسکو کے لیے اپنا سابقہ کھویا ہوا عالمی طاقت کا مقام حاصل کرنا اتنا آسان نہیں ہو گا، ’’مسئلہ یہ ہے کہ روس عسکری طور پر تو طاقت ور ہے لیکن اس کی معاشی حالت بہت اچھی نہیں ہے اور پھر عسکری طور پر بھی اس کی طاقت اتنی نہیں ہے جتنی کے امریکا کی ہے۔ مثال کے طور پر امریکا کے دنیا بھر میں سینکڑوں فوجی اڈے ہیں۔ وہ جنوبی کوریا، افریقہ، یورپ، ایشیا ہر جگہ موجود ہے۔ روس کی عسکری موجودگی اس پیمانے پر ممکن نہیں۔ اس کے علاوہ کوئی ملک بھی روس سے اس حد تک تعلقات نہیں بڑھائے گا کہ امریکا چراغ پا ہو جائے۔ یہاں تک کہ چین بھی ایسا نہیں کرے گا کیونکہ چین کی برآمدات کی سب سے بڑی منڈی امریکا اور اس کا اتحادی یورپ ہے۔ تو چین بھی ایک حد تک ہی روس کے ساتھ جائے گا۔‘‘

About BBC RECORD

Check Also

ترکی کی مداخلت سے فائدہ اٹھا کر داعش نے اپنی صفوں کو دوبارہ متحد کیا : پینٹاگان

Share this on WhatsAppامریکی وزارت دفاع پینٹاگان کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں کہا ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے