پاک بھارت کشيدگی، سرحد پر مسلح کارروائيوں کی تازہ لہر

پاکستانی اور بھارتی افواج کے مابين لائن آف کنٹرول پر ہفتے کے روز بھی فائرنگ کے تبادلے کی اطلاعات موصول ہوئی ہيں۔ سرحد پر تازہ جھڑپيں پچھلے چار دنوں سے جاری ہيں، جس دوران دونوں ملکوں کے شہری اور فوجی ہلاک بھی ہوئے ہيں۔

خبر رساں ادارے ايسوسی ايٹڈ پريس کی سری نگر سے ہفتہ بيس جنوری کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق روايتی حريف ملکوں پاکستان اور بھارت کی مسلح افواج کے مابين آج بروز ہفتہ بھی فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ تازہ پيش رفت ميں کم از کم چار شہريوں اور ايک فوجی کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ بھارتی پوليس نے دعویٰ کيا ہے کہ پاکستانی فوجيوں نے جموں کے علاقے ميں بھارتی سرحدی چوکيوں پر فائرنگ اور گولہ باری کی، جس کے نتيجے ميں کم از کم دو شہری اور ايک فوجی ہلاک ہو گئے جبکہ دس ديگر شہريوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہيں۔ بھارتی فوج کے ترجمان کرنل نيتن جوشی نے بتايا ہے کہ ان کا ايک فوجی پونچھ سيکٹر ميں ہلاک ہوا۔

دوسری جانب پاکستانی حکام نے بھی دعویٰ کيا ہے کہ بھارتی افواج کی فائرنگ کے نتيجے ميں پاکستان کے بھی کم از کم دو شہری ہلاک اور چار ديگر زخمی ہوئے۔ يہ امر اہم ہے کہ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے تبادلے کا يہ سلسلہ گزشتہ چار روز سے جاری ہے۔ اس دوران ہفتے سے پہلے تک دونوں ملکوں کے کم از کم چھ شہری اور تين فوجيوں کی ہلاکت رپورٹ کی جا چکی ہے۔ دونوں ملک ايک دوسرے پر سرحدی خلاف ورزيوں، بلا جواز فائرنگ و گولہ باری اور ايسے عوامل کے نتيجے ميں انسانی جانوں کے ضياع کا الزام عائد کرتے ہيں۔

اسی تناظر ميں پاکستانی وزارت خارجہ نے ملک ميں تعينات بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو ہفتے کے روز طلب کيا۔ اس ملاقات ميں بھارتی دستوں کی بلا جواز فائرنگ کا نکتہ اٹھايا گيا۔ اسلام آباد ميں وزارت خارجہ کے جاری کردہ بيان کے مطابق جمعرات و جمعے کے روز مبينہ بھارتی فائرنگ کے نتيجے ميں کم از کم چار سويلين ہلاک اور بيس سے زائد زخمی ہوئے۔ قبل ازيں جمعے کو بھی دونوں ملکوں کی نے ايک دوسرے کے سينئر سفارت کاروں کو طلب کيا تھا اور اپنا اپنا احتجاج ريکارڈ کرايا۔

دريں اثناء جنوبی ايشيا کے روايتی حريف ملکوں پاکستان اور بھارت کے مابين کشيدگی اور جھڑپوں کی اس تازہ لہر کے نتيجے ميں لائن آف کنٹرول کے آس پاس واقع ديہاتوں ميں خوف و ہراس کی فضا طاری ہے اور کئی مقامات پر بچوں کے اسکول بند کرا ديے گئے ہيں۔ حکام نے لوگوں کو ہدايت دی ہے کہ وہ اپنے اپنے گھروں ميں رہيں۔

بھارتی حکام نے چند ديہاتوں سے بيمار اور زخمی افراد کے انخلاء کے ليے بلٹ پروف گاڑياں تعينات کر رکھی ہيں۔ ايسے سرحدی تنازعات ميں سن 1989 سے لے کر اب تک دونوں ملکوں کے لگ بھگ ستر ہزار افراد شہری ہو چکے ہيں۔

About BBC RECORD

Check Also

ہماری فوج دہشت گردی کا مقابلہ کر سکتی ہے ہمیں امریکا اور اس کے اتحادی افواج کی کوئی ضرورت نہیں ہے

Share this on WhatsAppعراق کی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے