2017ء کے دوران 4 نئی جیلوں کا قیام، 23 قیدیوں کا پھانسیاں

پاکستان: لاہورسال 2017ء کے دوران جیلوں میں 23 سزائے موت کے قیدیوں کو پھانسیاں دی گئیں جبکہ 4 نئی جیلوں کا قیام عمل میں آیا۔ ساڑھے تین ہزار افراد کو بھرتی کیا گیا۔ پنجاب حکومت نے 50 کروڑ روپے کے فنڈز اسلحہ خریدنے کے لیے جاری کئے۔ 10 جیلوں میں پی سی او لگانے کی منظوری ہوئی اور 10 جیلوں میں ٹیوٹا کے ذریعے قیدیوں کو کورسز کرانے کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق کئی سالوں سے زیر التوا فیملی رومز اس سال مکمل ہوئے جو 4 جیلوں میں بنائے گئے ہیں۔ اکتوبر 2017ء میں پریزن فاؤنڈیشن میں ایکٹ پاس ہوا جس کے تحت ملازمین کے بچوں کے سکالرشپ اور شادی گرانٹ ڈبل کر دی گئی جبکہ ڈیوٹی پر فوت ہونے والے ملازمین کو 60 سال تک اسی طرح تنخواہ ادا کرنے، بچوں کی تعلیم فری، گھر فری جبکہ 60 سال کے بعد اسی طرح پنشن کی ادائیگی کے لیے قانون بنایا گیا۔

2017ء میں صوبے بھر کی کسی بھی جیل میں کوئی ہنگامہ ہوا اور نہ ہی کوئی قیدی فرار ہوا۔ ذرائع نے بتایا کہ ایک قیدی کی پھانسی گھاٹ سے واپسی اس وقت ہوئی جب مقتول کے لواحقین نے معاف کر دیا۔ آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر کی جگہ نئے آئی جی مرزا شاہد سلیم بیگ نے چارج سنبھالا جبکہ نئے ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز قاضی اشرف نے بھی چارج سنبھالا۔

صوبے کی 4 جیلوں میں فیملی رومز اپنی طرز کا پہلا منصوبہ ہے، جس میں قیدی جو 20 سال تک سزا پوری کر چکا ہے، تین دن اپنی فیملی کے ساتھ رہ سکے گا۔ یہ منصوبہ راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان اور لاہور میں مکمل کیا گیا۔ کیمپ جیل لاہور میں مخیر حضرات کے خصوصی تعاون سے 32 لاکھ کے جرمانے ادا کروا کے 60 قیدیوں کو رہا جبکہ اپنی مدد آپ کے تحت کچن میں کمرے بنوائے اور کوکنگ ایریا کو بہتر کیا گیا۔ سنٹرل جیل کوٹ لکھپت کو تین ایمبولینس عطیہ ہوئیں۔

About BBC RECORD

Check Also

جن علماء پر پہلے سے پابندی عائد ہے وہ بیان نہیں کرسکیں گئے؛ ڈپٹی کمشنر

Share this on WhatsApp(پی آئی ڈی) بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز ؛ نیلم ماہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے