فلپائن میں چیف جسٹس کے مواخذے پر حکومت اور عدلیہ میں کشیدگی

منیلا: فلپائنی چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی جمہوریت کےلئے خطرناک ہوگی۔ غیرملکی ٹی وی کوانٹرویو دیتے ہوئے فلپائن کی چیف جسٹس ماریا لورڈیز سارینوں نے فلپائن کے صدر روڈریگو دوتیرتے اور انکے اتحادیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مواخذہ جمہوریت کےلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مواخذہ صرف میری ذات تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس سے پوری جمہوریت متاثرہوگی۔

چیف جسٹس ماریا لورڈیز سارینوں نے فلپائنی صدر کی انسداد بدعنوانی مہم اور پولیس کے ہاتھوں ماورائے قانون ہلاکتوں پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ صدرنے مبینہ طورپر انسداد بدعنوانی مہم کے نام پر سرکاری اداروں کے نظم ضبط کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔

واضح رہے کہ فلپائن کے صدر نے چیف جسٹس پر کرپشن اور اثاثے چھپانے کے الزامات لگائے تھے جس پر ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کی گئی ہے۔ فلپائن کی تاریخ میں پہلی بار سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے مواخذہ کی کارروائی کی جارہی ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

بھارتی ایجنسی ’سی بی آئی‘ کے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے دفاتر پر چھاپے

Share this on WhatsAppبھارت کی وفاقی تفتیشی ایجنسی نے ایمنسٹی انٹرنیشنل پر غیر ملکی مالی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے