دنیا میں دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ، ہلاکتوں میں کمی

عالمی دہشت گردی انڈیکس کے مطابق یہ مسلسل دوسرا برس ہے، جب دنیا بھر میں دہشت گردانہ حملوں کی نتیجے میں ہلاکتوں ميں کمی دیکھی گئی ہے، تاہم اس انڈیکس میں بتایا گیا ہےکہ گزشتہ برس دہشت گردانہ حملوں سے زیادہ تعداد میں ممالک متاثر ہوئے ہیں۔ آسٹریلیا کے ادارہ برائے معاشیات اور امن کی جانب سے جاری کردہ اس انڈیکس میں کہا گیا ہے کہ 2014ء دہشت گردانہ حملوں سے ہونے والی ہلاکتوں کا نکتہ عروج تھا۔ گزشتہ برس شدت پسندانہ حملوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتیں 25 ہزار چھ سو 73 رہيں، جو سن 2014ء کے مقابلے میں 22 فیصد کم ہيں۔

نئے قانون کے مطابق ایسے مشتبہ افراد، جن پر دہشت گرد تنظیموں سے روابط کا شبہ ہو گا، وہ اس شہر سے باہر نہیں جا سکیں گے، جہاں ان کی رجسٹریشن ہوئی ہو گی۔ انہیں روزانہ کی بنیاد پر متعلقہ تھانے میں پیش بھی ہونا پڑے گا۔ ایسے افراد کے کچھ مخصوص مقامات پر جانے پر پابندی بھی عائد کی جا سکے گی۔ یہ اقدامات صرف انسداد دہشت گردی کے لیے ہوں گے۔

اس بابت سب سے زیادہ بہتری نائجیریا میں دیکھی گئی، جہاں گزشتہ برس شدت پسند تنظیم بوکوحرام کے حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں میں 82 فیصد کمی آئی۔ تاہم پچھلے سال عراق میں اسلامک اسٹیٹ کے جہادیوں کے حملوں میں 40 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
اس انڈیکس میں دہشت گردی کے پھیلاؤ میں اضافے کو ’پریشان کن‘ قرار دیا گیا ہے۔ انڈیکس کے مطابق سن 2016 میں سن 2015 کے مقابلے میں دہشت گردی کے شکار ہونے والے ممالک میں قریب ایک درجن کا اضافہ ہوا۔

اس انڈیکس میں خبردار کیا گیا ہےکہ شام اور عراق سے پسپا ہونے والے جہادی دیگر ممالک میں شدت پسندانہ گروپوں کا حصہ بن سکتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بابت افغانستان کی صورت حال ’پیچیدہ‘ رہی، جہاں طالبان کی جانب سے عام شہریوں پر حملوں میں کمی مگر سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ انڈیکس میں کہا گیا ہے کہ یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کے لیے پچھلا سال (علاوہ سن (2001 دہشت گردانہ حملوں کے اعتبار سے سن 1988 کے بعد سب سے زیادہ خون ریز رہا۔

About BBC RECORD

Check Also

ولادی میر پیوٹن 2036 تک روس کے صدر منتخب

Share this on WhatsAppبی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ ماسکو روس کے عوام نے ولادی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے