عراق میں اجتماعی قبر سے 400 لاشیں مل چکی ہیں: حکام

عراق میں حکام نے حال ہی میں شدت پسند گروپ ’داعش‘ کے قبضے سے آزاد کرائے گئے الحویجہ شہر میں ایک بڑی اجتماعی قبر کا پتا چلا ہے جس میں کم سے کم 400 لاشوں کی باقیات کا پتا چلا ہے۔

کرکوک کے گورنر راکان سعید نے بتایا کہ الحویجہ شہرسے ملنے والی اجتماعی قبروں میں دفن کیے گئے افراد کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ شہر اکتوبر 2017ء تک داعش کے قبضے میں تھا۔ گذشتہ ماہ سیکیورٹی فورسز نے داعش کو اس شہر سے نکال باہر کیا ہے۔

رکان سعید جنہوں نے کرد گورنر کے استعفے کے بعد کرکوک گورنری کی قیادت سنھبالی ہے کا کہنا ہے کہ ’ہم اس وقت امریکی فوج کے زیر استعمال رہنے والے البکارہ فوجی اڈے پر ہیں۔ داعشی جنگجو اس اڈے کو ’پھانسی گھاٹ‘ کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔

البکارہ فوجی اڈا الحویجہ شہر سے جنوب مغرب میں محض تین کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ کرکوک کے گورنر کا کہنا ہے کہ اجتماعی قبروں سے ملنے والی لاشوں میں سے بعض لوگوں کو سرخ کپڑوں میں موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے جب کہ بڑی تعداد کے شہریوں کو سادہ لباس ہی میں قتل کیا گیا۔ یہ قبرستان داعش کی سفاکیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اب تک اجتماعی قبر سے 400 لاشیں مل چکی ہیں جب کہ حکام مزید چھان بین بھی کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ داعش نے سنہ 2014ء کو عراق کے ایک تہائی اور شام کے قریبا نصف علاقے پر قبضہ جمالیا تھا۔ ان دونوں ملکوں کے کئی بڑے شہروں پر قبضے کے بعد داعش نے بڑی تعداد میں لوگوں کا اجتماعی قتل عام کیا اور مقتولین کو اجتماعی قبروں میں زمین برد کردیا گیا۔

اجتماعی قبر سے ملنے والی لاشوں سے پتا چلتا ہے کہ داعشی جنگجوؤں نے انتقام کی بدترین پالیسی اپناتے ہوئے ان لوگوں کو بے رحمی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارا۔ ان کے سرقلم کیے گئے اور انہیں اذیتیں دے کر قتل کیا گیا۔ بہ ظاہرایسے لگتا ہے کہ جیسے جیسے داعش کا گھیرا تنگ ہوتا گیا اس کی سفاکیت میں اتنا ہی اضافہ ہوتا رہا ہے۔

عراقی فوج کے ایک عہدیدار جنرل مرتضیٰ عباس لعیبی کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے داعش کے ہاتھوں قتل کیے افراد کے اجتماعی قبرستان کا معائنہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ جگہ الحویجہ کے شمال میں تین کلومیٹر دور ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں