پاکستان کے مجموعی قرض میں ایک کھرب روپے کا اضافہ

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق اگست کے اواخر تک ملک کا مجموعی قرضہ تقریباً 21 کھرب 80 ارب روپے تک پہنچ گیا جو کہ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران کی شرح سے 11.23 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ سال 31 اگست کو پاکستان کا قرض ساڑھے 19 کھرب روپے تک تھا۔

مرکزی بینک کے ہفتہ کو سامنے آنے والے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت بدستور بینکوں سے قرضوں پر انحصار کر رہی ہے جب کہ ماہرین اس بڑھتے ہوئے قرضے کو اخراجات اور بجٹ خسارے میں اضافے، ٹیکسوں کی کم وصولی اور بڑی تعداد میں ٹیکس کا دائرہ محدود ہونے اور بیرونی سرمایہ کاری کے فقدان کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔

پاکستان کو ایک دہائی سے زائد عرصے تک دہشت گردی کے علاوہ توانائی کے شدید بحران کا بھی سامنا رہا جس سے اس کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی۔ لیکن موجودہ حکومت یہ دعویٰ کرتی آئی ہے کہ ماضی کی نسبت ملک کی معیشت اپنے پیروں پر کھڑی ہو چکی ہے اور حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے مستقبل میں مزید فروغ پائے گی۔

تاہم خاص طور پر وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف احتساب عدالت میں جاری کارروائیوں کے بعد سے حزب مخالف اور ماہرین اقتصادیات یہ کہتے آ رہے ہیں کہ ضروری ہے کہ ملک کی اقتصادیات کو کسی بڑے بحران سے بچانے کے لیے اسحٰق ڈار منصب سے علیحدہ ہو جائیں اور حکومت اس جانب سنجیدگی سے توجہ دے۔

حکومت کو سیاسی طور پر بھی مختلف چیلنجز کا سامنا ہے اور کاروباری طبقہ ملک میں جاری سیاسی کشمکش کو بھی معیشت کے لیے مضر قرار دیتا آ رہا ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ عالمی بینک بھی اپنی ایک تازہ رپورٹ میں پاکستان کی معیشت کے بارے میں خبردار کر چکا ہے اور اس کے بقول پاکستان میں ترسیلات زر اور زرمبادلہ میں مسلسل کمی، مجموعی قرض، تجارتی اور بجٹ خسارہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ لیکن وفاقی وزارت خزانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چیلنجز کے باوجود ملک کی معیشت مستحکم ہے۔

حکومتی عہدیداران بھی یہ کہتے آ رہے ہیں کہ معیشت کی بحالی اور اس کا استحکام موجودہ حکومت کی ترجیح رہی ہے اور اس کی پالیسی کی وجہ سے ماضی کی نسبت صورتحال اتار چڑھاؤ کے باوجود بہتری کی طرف گامزن ہے۔ حکمران جماعت کے قانون ساز اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے رکن میاں عبدالمنان نے اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حکومت نے اس ضمن میں اصلاحات بھی کی ہیں۔

“2013-14 میں جب ہم آئے تھے تو ہمارا کل ریونیو کلیکشن 1955 ارب روپے تھا اور اس سال ہمارا ہدف 4000 ارب روپے ہے یعنی دگنے سے بھی زیادہ ہے۔ جب یہ سارے سی پیک کے منصوبے اور توانائی کے منصوبے مکمل ہوں گے تو اس سے صورتحال مزید بہتر ہو جائے گی۔” ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ صورتحال کی بہتری کے لیے ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کو بیرونی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے بھی ٹھوس اقدام کرنا ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں