جان کو خطرہ ہے، تحفظ دیا جائے: اینٹی کرپشن سینٹر کی سربراہ

افغانستان کے انسدادِ بدعنوانی کے ادارے کے اہلکاروں پر خونی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان حملوں کے تناظر میں اس ادارے کی خاتون سربراہ کا کہنا ہے کہ حکومت ادارے کے اہلکاروں کو تحفظ فراہم کرے۔

افغانستان کے اینٹی کرپشن جسٹس سینٹر ACJC نے کئی اہم مقدمات کی کھلی سماعت شروع کر رکھی ہے۔ اس ادارے سے منسلک تین تفتیش کاروں کو رواں برس کے دوران خونی حملوں میں ہلاک کیا جا چکا ہے۔ یہ تینوں اہلکار کابل پولیس کے تھے۔ رواں مہینے کے اوائل میں بھی ایک پولیس تفتیش کار کو گولیاں مار کر شدید زخمی کر دیا گیا تھا۔ زخمی ہونے والے اس پولیس اہلکار کے چہرے پر بھی ایک گولی لگی تھی۔

انسداد بدعنوانی کے ادارے کے ایک اہلکار نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ادارے کے ایک سینیئر اہلکار پر ایک حملہ، اُس کے گھر کے باہر کیا گیا لیکن وہ اس حملے میں محفوظ رہا۔ اس اہلکار کا کہنا تھا کہ یقینی طور پر مشتبہ حملہ آور وہ ہیں جن کی کرپشن کے بارے میں ادارہ کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان خونی حملوں میں ابھی تک کسی ایک شخص کی گرفتاری بھی عمل میں نہیں آ سکی ہے۔

افغانستان میں عوامی سطح پر کرپشن کے خاتمے کے لیے شعور پایا جاتا ہے۔ اس مناسبت سے ہرات میراتھن میں شریک خواتین
اینٹی کرپشن جسٹس سینٹر کی چیف جج انیسہ رسولی نے اپنے خدشات سے اے ایف پی کو آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ وہ اور بقیہ لوگ جو اِس جسٹس سینٹر سے منسلک ہیں، وہ محفوظ نہیں ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ادارے سے منسلک افراد کا گھر سے دفتر تک پہنچنے کا سفر بھی انتہائی خطرناک ہو چکا ہے۔ اینٹی کرپشن ادارے کی عمارت کابل کے نواح میں واقع ہے۔ صدر اشرف غنی کے خصوصی حکم پر اس ادارے کے تحفظ کے لیے وی آئی پی سکیورٹی کا انتظام کیا گیا ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ انیسہ رسولی اور ایک دوسرے جج کو بکتربند گاڑی میں مرکز لایا جاتا ہے۔ اینٹی کرپشن جسٹس سینٹر سے منسلک ان ججوں کو بکتر بند گاڑی مہیا کرنے کا حکم افغان سپریم کورٹ نے جاری کیا تھا۔ یہ بکتر بند گاڑیاں فی الحال مختصر وقت کے لیے دی گئی ہیں۔ ادارے کے ساتھ منسلک تفتیش کاروں اور وکیلوں کو پولیس کی تحویل میں دفتر تک ضرور پہنچایا جاتا ہے لیکن انہیں اس صورت حال میں بھی حملوں کا خطرہ لاحق ہے۔ جسٹس سینٹر کے اہلکار ان حفاظتی انتظامات کو ناکافی خیال کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں