سموگ کے اثرات: شہری کیسے بچ سکتے ہیں؟رپورٹ

چوہدری محمد نعیم
بی بی سی ریکارڈ لندن ۔وہاڑی

صوبہ پنجاب کے میدانی علاقوں میں گرد آلود دھند کے باعث لوگ آنکھوں، کانوں اور گلے کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔
وہاڑی شہر اور اطراف کے علاقوں میں رہائش پذیر افراد گرد آلود دھند ‘سموگ’ کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

سموگ کی وجہ سے صحت کی خرابی کی شکایت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

ماہرین کے مطابق سموگ دو انگریزی الفاظ فوگ اور سموک سے مل کر بنا ہے۔ سردیوں کے موسم میں جب ہوا کا دباؤ انتہائی کم ہو جائے تب فضائی آلودگی دھند میں شامل ہو کر اطراف میں مضر صحت دھوئیں کی شکل اختیار کر جاتی ہے جسے سموگ کا نام دیا گیا ہے۔

پنجاب کے دیگر اضلاع کی طرح وہاڑی میں بھی گزشتہ چند روز سے سموگ کے بادل چھائے ہوئے ہیں جس وجہ سے شہریوں کو سانس لینے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ حد نگاہ کم ہو کر 20 میٹر رہ گئی ہے جس وجہ سے ڈرائیونگ میں شدید دقت پیش آ رہی ہے اور ٹریفک حادثات میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ شہری ملک عامر بشیر نے بتایا کہ وہ گزشتہ روز معمول کے مطابق کام سرانجام دے رہے تھے اور سردی کی آمد کا خیال کرتے ہوئے دھوئیں کے بادلوں کو دھند سمجھ کر نظر انداز کرتے رہے۔

احتیاتی تدابیر میں کوشش کریں کہ گھر سے باہر کی سرگرمیوں کو محدود کر دیا جائے، اگر باہر نکلنا ناگزیر ہو تو فیس ماسک کا استعمال اور عینک ضرور لگائیں۔ "ڈاکٹر منظور احمد”انہوں نے بتایا کہ موٹر سائیکل پر محض 30 منٹ ہی سفر کر پائے تھے کہ آنکھوں میں جلن اور گلے میں چبھن محسوس ہونے لگی۔

"گھر آ کر منہ ہاتھ دھویا تو صورت حال نارمل ہوئی لیکن بازار جاتے ہوئے دوبارہ یہی عمل ہوا۔”آخر کار ڈاکٹر کے پاس جانے کا فیصلہ کیا۔ ڈاکٹر نے چیک اپ کے فوراً بعد بتایا کہ یہ سب سموگ کی وجہ سے ہے، ڈاکٹر نے انہیں ادویات اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ رخصت کیا۔

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں تعینات ڈاکٹر منظور احمد نے بتایا کہ سموگ کو عام طور پر لوگ زیادہ سنجیدگی سے نہیں لے رہے، لیکن حقیقت میں اگر سموگ سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر نہ برتی جائیں تو نقصان کا اندیشہ ہے۔

ان کا کہنا ہے ان دنوں سموگ ناصرف پاکستان کے متعدد شہروں میں بلکہ دنیا کے اکثر ممالک میں چھائی ہوئی ہے جن میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ایران، انڈیا اور پاکستان کا صوبہ پنجاب ہے اسی طرح جنوبی پنجاب کے اکثر اضلاع بھی سموگ کی لپیٹ میں ہیں۔

ڈاکٹر منظور احمد کہتے ہیں کہ اس سموگ سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔

"احتیاطی تدابیر میں کوشش کی جائے کہ گھر سے باہر کی سرگرمیوں کو محدود کر دیا جائے، اگر باہر نکلنا ناگزیر ہو تو فیس ماسک اور عینک کا استعمال کریں۔”ان کا کہنا ہے کہ پانی اور سوپ کا استعمال زیادہ کریں، چائے کی بجائے گرین ٹی استعمال کریں۔
انہوں نے بتایا کہ چونکہ پنجاب میں سموگ پہلی بار آئی ہے اس لیے زیادہ تر لوگوں کو اس کے نقصان بارے اندازہ نہیں۔ ان کے مطابق ہر پانچواں شخص سموگ سے متاثر ہو رہا ہے۔ سموگ کی ایک وجہ علاقے میں اوسط بارشوں کا نہ ہونا بھی ہے۔

محکمہ ماحولیات کے ضلعی آفیسر رانا صفدر کہتے ہیں کہ موجودہ سموگ فیکٹریوں اور بھٹے کے دھویں کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔ان کے مطابق اگر بارش ہو جائے تو سموگ فوری ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ بارش نہ ہونے کی صورت میں کم از کم پندرہ دن مزید سموگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

"سموگ سے شہروں کے ساتھ ساتھ ناصرف دیہاتوں کے لوگ متاثر ہوتے ہیں بلکہ سموگ کے برے اثرات سے جانور اور فصلوں کو بھی نقصان کا اندیشہ ہے۔”فزیشن ڈاکٹر طارق محمود طاہر نے بتایا کہ وہ لوگ جو سانس کے عارضہ میں مبتلا ہیں انہیں خاص طور پر احتیاط برتنی چاہیئے کیونکہ انہیں سموگ کے مضر اثرات فوری محسوس ہونے لگتے ہیں۔

"اس کے علاوہ پھیپھڑوں کا کینسر، سینے میں درد، زکام اور کھانسی کا بھی عارضہ لاحق ہو سکتا ہے۔”

ان کا کہنا ہے کہ کوشش کرنی چاہیئے کہ ضرورت کے بغیر باہر نہ نکلا جائے، اگر باہر جانا پڑے تو وہ اوقات منتخب کریں جب رش کم سے کم ہو اور زیادہ رش والے راستوں پر جانے سے گریز کریں۔باہر نکلتے وقت فیس ماسک ضرور پہنیں، ان دنوں میں سیر اور ورزش ہرگز نہ کریں۔

About BBC RECORD

Check Also

میری گرفتاری ہوئی تو اس کا سامنا کروں گا: میاں شہباز شریف

Share this on WhatsAppبندیا اسحاق بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ لاہور پاکستان مسلم لیگ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے