مسلم لیگ (ن) کی سینئر قیادت صلاح مشورے کے لیے لندن میں جمع

لندن: برطانیہ کا دارالحکومت ایک بار پھر پاکستانی سیاست کا مرکز بن گیا اور وزیراعظم سمیت حکمراں جماعت کی اعلیٰ شخصیات وہاں موجود ہیں۔

رابرٹ ولیم: کے مطابق برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں پاکستان کی سیاست سے متعلق اہم فیصلے کیے جارہے ہیں۔پاکستان کے سابق وزیر نواز شریف، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر خارجہ خواجہ آصف لندن پہنچ گئے ہیں جب کہ مزید وفاقی وزرا کی آمد بھی متوقع ہے۔ آج وسطی لندن میں نواز شریف کے صاحب زادے حسن نواز کے دفتر میں (ن) لیگ کا اہم اجلاس ہوگا اور حکمراں قیادت سر جوڑ کر بیٹھے گی۔

اجلاس میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی احتساب عدالتوں میں پیشی اور (ن)لیگ میں پڑنے والی دراڑوں پر گفتگو ہو گی جب کہ مستقبل کا لائحہ عمل بھی طے کیا جائے گا۔ نواز شریف رات گئے جدہ سے لندن پہنچے جہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاناما کے بجائے اقاما پر ایک وزیر اعظم کو نکال دیا جائے تو ملک میں کس طرح استحکام اور خوش حالی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ میری اہلیہ اسپتال میں زیرعلاج تھیں، انشا اللہ جلد وطن واپس آؤں گا، اس حوالے سے افواہوں پر کان نہ دھرا جائے۔

یاد رہے کہ نیب ریفرنس میں گزشتہ سماعت میں پیش نہ ہونے پر پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوچکے ہیں اور عدالت نے انہیں 3 نومبر کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ نواز شریف 5 اکتوبر کو لندن گئے تھے اور انہیں 23 اکتوبر کو واپس آنا تھا لیکن ان کی واپسی کا شیڈول چار بار تبدیل ہوا اور پہلے وہ لندن سے سعودی عرب چلے گئے جس کے بعد آج دوبارہ لندن پہنچ گئے۔

About BBC RECORD

Check Also

ریکوڈک کیس کا فیصلہ؛ پاکستان پر 5 ارب 97 کروڑ ڈالر جرمانہ عائد

Share this on WhatsAppثاقب بٹ بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز ( اسلام آباد ) ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے