شامی پارلیمان کے رکن کا داعش کے ساتھ مبینہ کاروبار

شام کے صدر کی حامی پارلیمنٹ کے ایک رکن نے جہادی تنظ‌یم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ساتھ کئی برسوں کاروباری تعلق استوار رکھا۔ یہ رکن پارلیمنٹ جہادیوں سے مسلسل گندم خریدنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھا۔

نیوز ایجنسی روئٹرز سے بات کرتے ہوئے عراقی صوبے الرقہ کے پانچ کسانوں اور جہادی انتظامیہ کے دو اہلکاروں نے تصدیق کی ہے کہ وہ شامی پارلیمنٹ کے رکن حسام الکترجی کے ساتھ کاروبار کرتے رہے ہیں۔ الکترجی تقریباً چھ برسوں تک ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے زیر قبضہ علاقوں سے گندم خریدتے رہے ہیں اور یہ گندم دارالحکومت دمشق تک لائی جاتی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ اس انتظام کے تحت شامی حکومت اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں لوگوں کو خوراک فراہم کرتی رہی ہے۔

دمشق میں حسام الکترجی کے دفتری اہلکار محمد کسب نے بھی تصدیق کی ہے کہ الکترجی گروپ نے حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں اُس گندم کی خرید کی تھی، جو جہادی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے زیر قبضہ علاقوں میں کاشت کی جاتی تھی۔ کسب نے البتہ دہشت گرد تنظیم داعش یا اسلامک اسٹیٹ کے ساتھ کسی بھی قسم کے دوسرے تعلق یا رابطے کی تردید کی ہے۔
نیوز ایجنسی اس امر کی تصدیق نہیں کر سکی ہے کہ داعش اور الکتر جی کے درمیان کاروباری تعلق کے حوالے سے صدر بشار الاسد کس حد تک آگاہی رکھتے تھے

تجزیہ کاروں نے حسام الکترجی کے ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ساتھ گندم کے کاروبار پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف تو شامی صدر بشار الاسد مغربی اقوام پر الزام عائد کرتے ہیں کہ انہوں نے اس جہادی تنظیم کی اسمگلنگ کی سرگرمیوں پر آنکھ بند رکھی ہوئی ہے تو دوسری جانب اُن کی حامی و حلیف پارلیمنٹ کا ایک رکن خاموشی کے ساتھ جہادی تنظیم کی قائم کردہ انتظامیہ اور کسانوں کے ساتھ کاروبار کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھا۔

ہدایت کار کاؤرِس میکی کی فلمیں چبھنے والے کرداروں پر مبنی ہوتی ہیں۔ اس تازہ فلم میں وہ ایک بار پھر دو زبردست کردار تخلیق کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک شامی مہاجر خالد علی کا کردار ہے، جسے شیروان حاجی (بائیں جانب) نے ادا کیا اور دوسرا والڈیمار وِکسٹروم کا کردار ہے، جسے زاکاری کوسمانین نے نبھایا۔

دیگر چند مبصرین کے مطابق ایران نواز شامی حکومت کے ایک اہم شخصیت کے سخت سنی عقیدے کی جہادی تنظیم کے ساتھ کاروباری قربت حیران کن اور دو رخی حکومتی پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز نے حسام الکترجی کے دفتر سے کم از کھ چھ مرتبہ رابطہ کیا تھا مگر اس کاروبار پر کوئی بڑا ردعمل نہیں دیا گیا۔ کافی تگ و دو کے بعد اُن کے دفتر کے مینیجر محمد کسب نے اس کاروباری سرگرمی کی تصدیق کی۔
انہوں نے یہ ضرور کہا کہ یہ انتہائی مشکل حالات میں کیا جانے والا کام تھا۔ کسب نے اس سے زیادہ تفصیل فراہم کرنے سے گریز کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں