پاناما لیکس؛ بھارتی سپریم کورٹ کا خصوصی تحقیقاتی ٹیم بنانے سے انکار

نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کیلئے اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) بنانے کی درخواست مسترد کردی۔ بھارتی عدالت عظمیٰ کے دو رکنی بنچ نے پاناما لیکس سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار نے کہا کہ پاناما لیکس میں ملوث بھارتی شہریوں کی آف شور کمپنیوں کی شفاف تحقیقات کے لیے ایس آئی ٹی بنائی جائے، کیونکہ تاحال حکومت نے اس معاملے میں ایک مقدمہ بھی درج نہیں کیا، حالانکہ 6 رپورٹس عدالت میں جمع کرائی جاچکی ہیں۔

بھارتی حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت سے کہا کہ پاناما لیکس بہت پیچیدہ اور غیرمعمولی معاملہ ہے ، اس معاملے پر حکومت نے 4 اداروں پر مشتمل ملٹی ایجنسی گروپ (ایم اے جی) تشکیل دے دیا ہے جس میں ٹیکس بورڈ، سرکاری بینک اور انسداد کرپشن کی خفیہ ایجنسیوں کے افسر شامل ہیں، لہذا مزید کوئی ایس آئی ٹی بنانے کی ضرورت نہیں۔

سپریم کورٹ نے حکومت موقف کو درست قرار دیتے ہوئے درخواست مسترد کردی اور کہا کہ ٹیم پاناما لیکس کی تحقیقات کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ بھارت کا ایم اے جی عدالت میں پاناما لیکس کی 6 تحقیقاتی رپورٹس جمع کراچکا ہے۔

بھارت کی مرکزی حکومت نے پچھلے سال سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ بھارتی شہریوں کے 81 ارب 86 کروڑ روپے غیر قانونی طور پر آف شور اکاؤنٹس میں موجود ہیں۔ پاناما لیکس میں 500 بھارتی شہریوں کے نام سامنے آئے ہیں جن میں مشہور اداکار اور صنعت کار بھی شامل ہیں جنہوں نے ٹیکس بچانے کے لیے بیرون ملک آف شور کمپنیوں میں پیسہ چھپایا ہوا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں