شمسی توانائی سے کاربن ڈائی آکسائیڈ سے ایتھانول تیار کرنے میں کامیابی

رکلے، کیلیفورنیا: ہماری فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی ہوئی مقدار عالمی تپش اور آب و ہوا میں تبدیلی کی وجہ بن رہی ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو سورج کی روشنی سے ایتھانول میں تبدیل کرنے کے ابتدائی تجربات میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

لارنس برکلے نیشنل لیبارٹری کے سائنسدانوں نے سورج کی توانائی سے براہِ راست ایندھن بنانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہاں موجود مصنوعی ضیائی تالیف (آرٹیفیشل فوٹوسنتھے سز) نے عین وہی طریقہ استعمال کیا ہے جس کے تحت پودے سورج کی روشنی سے پانی، توانائی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ بناتےہیں۔ پہلے اس کام کےلیے بہت بجلی درکار ہوتی تھی لیکن اب ماہرین نے کم بجلی میں یہ کام کردکھایا ہے۔ رپورٹ کے مرکزی مصنف جیول ایگر نے کہا کہ اس سے براہِ راست ایندھن بنایا جاسکتا ہے۔

مصنوعی تالیف میں بجلی حاصل کرنے کے عمل کو شمسی روشنی کے تحت ناپا جاتا ہے ۔ اگر سورج عین سرپر ہو تو شمسی روشنی کی مقدار ایک ہوگی۔ جبکہ غروبِ آفتاب کے وقت شمسی روشنی کا پیمانہ 0.1 ہوگا۔ مصنوعی فوٹو سنتھے سز والے آلات اور مشینیں صرف اسی وقت کام کرتی ہیں جب پیمانہ ایک ہو یعنی سورج سر پر ہو اور آسمان پر بادل نہ ہوں۔

اس کے لیے ماہرین نے اریڈیئم آکسائیڈ نینوٹیوب اینوڈ استعمال کیا جو بہت کم روشنی (0.35) میں بھی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ایتھانول میں بدل سکتا ہے۔

اس عمل کو مکمل کرنے کےلیے صرف پانچ وولٹ بجلی درکار ہوتی ہے اور ایتھانول یا ایتھائل الکحل تیار ہوجاتی ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ اس عمل سے زمین پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مسئلے کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔

About BBC RECORD

Check Also

انسان کا نام و نشان مٹ جائے گا، 16 ہزار سائنسدانوں کی وارننگ جاری

Share this on WhatsAppنیویارک: دنیا بھر سے 184 ممالک کے 16 ہزار سائنس دانوں نے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے