بل گیٹس نے اگلے 10 سال میں صحت کے بڑے خطرات سے آگاہ کردیا

واشنگٹن: بل اور میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے اپنی پہلی سالانہ ’’گول کیپر رپورٹ‘‘ پیش کرتےہوئے عالمی صحت سے وابستہ چیلنج اور کچھ کامیابیاں بھی بیان کی ہیں۔ اس رپورٹ کےتحت بل گیٹس نے اگلےعشرے میں صحت کےعالمی مسائل پر بھی بحث کی ہے۔

بل اور میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے مطابق بچوں کی اموات اور ایچ آئی وی انفیکشنز میں خاطرخواہ کمی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ خاندانی منصوبہ بندی اور خواتین کے لیے برابری کے حقوق کی کوششیں جاری ہیں۔

رپورٹ کےمطابق دائمی امراض اور انفیکشن سے پھیلنے والی بیماریاں عالمی آبادی کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ہوں گی اور اگلے دس برس ان کا پلڑا بھاری دکھائی دے رہا ہے۔
اس موقع پر بل گیٹس نے کہا: ’ذیابیطس، الزائیمر اور دماغی امراض جیسے دائمی عارضے بڑھ رہے ہیں جو ایک بڑا مسئلہ ہے۔ دوسری جانب ترقی پذیر ممالک میں ملیریا، ہیضہ، نمونیہ، ٹی بی اور ایچ آئی وی کے مریضوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور اس مسئلے کو حل کرنا بھی ضروری ہے۔‘

بل گیٹس کے مطابق ماحولیاتی اور دیگر نامعلوم وجوہ کی بنا پر مہلک اور دائمی امراض اب بھی بڑے پیمانے پر موجود ہیں اور ان کے بارے میں آگہی ضروری ہے۔ جبکہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں الزائیمر اور ڈیمنشیا جیسے امراض کے شکار افراد کی تعداد 2050 تک تین گنا ہوجائے گی۔ ماہرین اب بھی ان کی جینیاتی، ماحولیاتی اور طبی وجوہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں۔

تاہم امریکہ میں اب بھی کینسر اور امراضِ قلب اموات کی سب سے بڑی وجوہ میں سے ایک ہے جبکہ دیگر ترقی یافتہ ممالک میں ان کے خلاف مؤثر علاج اور دواؤں کی تیاری کی تحقیق پر خطیر رقم بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ تاہم اس وقت دنیا بھر میں کینسر کے درجنوں علاج پر کام ہورہا ہے جو اپنے اپنے مراحل میں ہیں۔ ان میں سے ایک پیش رفت خون کے ٹیسٹ ہیں جو قبل ازوقت کینسر کی شناخت کرسکتے ہیں۔

اسی بنا پر بل گیٹس نے امید ظاہر ہے کہ یہ ایک زبردست پیش رفت ہے۔ بل گیٹس نے کہا کہ مشرقی افریقہ اور وسطی امریکہ کے ممالک صحت کے مسائل حل کرنے کے لیے بیرونی رقم اور امداد کی جانب دیکھتے ہیں۔ بل گیٹس نے کہا کہ گزشتہ 15 برس سے ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں کمی ہوئی ہے لیکن اس پر خرچ کی جانے والی رقم بھی کم ہورہی ہے جو ایک بڑا چیلنج ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں