’مردوں کے مقابلے میں خواتین میں سیکس میں عدم دلچسپی کا امکان دو گنا زیادہ‘

برطانیہ میں جنسی امور سے متعلق ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اپنے ساتھی کے ساتھ رہتے ہوئے مردوں کے مقابلے میں خواتین میں سیکس کے تئیں عدم دلچسپی کا د گنا خطرہ رہتا ہے۔

اس تحقیق کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مرد اور خواتین دونوں کی ہی جنسی امنگ میں کمی آتی ہے۔ لیکن طویل رشتوں میں خواتین اکثر و بیشتر سرد مہری اختیار کر لیتی ہیں۔
اس تحقیق کے مطابق مجموعی طور پر خرابی صحت اور جذباتی قربت میں کمی کی وجہ سے مرد و خواتین دونوں ہی کی جنسی خواہش متاثر ہوتی ہے۔

یہ نئی تحقیق تقریباً پانچ ہزار مرد اور 6700 خواتین کے تجربات پر مبنی ہے جو ‘بی ایم جی اوپن’ نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔
برطانوی محققین کا کہنا ہے کہ جنسی خواہش میں کمی جیسے مسائل کا حل صرف دوا کے ذریعے نہیں ہونا چاہیے بلکہ متاثرہ شخص کی پوری شخصیت کو مد نظر رکھ کر اس کا علاج کرنا چاہیے۔

سیکس تھریپسٹ امانڈا میجر کا کہنا ہے کہ سیکس میں عدم دلچسپی کوئی غیر معمولی چیز نہیں ہے اور کئي مختلف وجوہات ہیں جس کی بنیاد پر مرد اور خواتین میں تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔

‘بعض لوگوں میں ایسا ہونا عام سی بات ہوسکتی ہے لیکن بعض کے لیے یہ تکلیف دہ اور زندگی میں مصیبت کا سبب ہوسکتی ہے۔’
اس تحقیق کے لیے مجموعی طور پر جن افراد کا جائزہ لیا گيا ان میں سے 15 فیصد مرد اور 34 فیصد خواتین نے بتایا کہ پچھلے سال میں تین یا اس سے زیادہ مہینوں تک سیکس میں کوئی دلچسپی ہی نہیں رہی تھی۔

مردوں کی جنسی خواہش میں یہ کمی 35 سے 44 برس کے درمیان دیکھی گئی جبکہ خواتین میں 55 اور 64 برس کے درمیان جنسی خواہش میں کمی میں زبردست اضافہ ہوا۔
لیکن ساؤتھمٹن یونیورسٹی اور یونیورسٹی کالج لندن کے محققین کا کہنا ہے کہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ خواتین میں اس کی وجہ حیض کا بند ہو جانا ہے۔

15 فیصد مرد اور 34 فیصد خواتین نے بتایا کہ انھیں سابقہ برسوں میں تین یا اس سے زیادہ مہینوں تک سیکس میں کوئی دلچسپی ہی نہیں رہی تھی البتہ انھیں اس بات کا ضرور پتہ چلا کہ گھر میں نوجوان بچوں کی موجودگی کی وجہ سے خواتین میں جنسی خواہش ماند پڑ جاتی ہے۔

برطانیہ میں قومی سطح پر جنسی رویے اور طرز زندگی سے متعلق ہونے والے ایک جائزے میں ان لوگوں نے جنسی خواہش میں کمی کا اظہار نہیں کیا جو اپنے ساتھی سے باآسانی سیکس کے بارے میں بات کر سکتے تھے۔

اس کے برعکس جن لوگوں کے ساتھیوں میں جنسی مشکلات تھیں اور جو لوگ اپنے رشتے میں زیادہ خوش نہیں تھے ان میں سے بیشتر نے وقت کے کسی نہ کسی موڑ پر سیکس میں عدم دلچسی کا اظہار کیا۔

اس تحقیق کے مطابق خواتین میں ‘اپنے پارٹنر کے ساتھ اسی سطح پر سیکس میں دلچسپی نہ دکھانا اور ایک ہی طرح کی جنسی پسند اور ناپسند شیئر نہ کرنا بھی جنسی خواہشات میں کمی کی وجوہات ہیں۔’

یونیورسٹی آف ساؤتھمپٹن میں جنسی امور کی ماہر پروفیسر سنتھیا گراہم کا کہنا ہے اس تحقیق سے اس بات کو سمجھنے میں مدد ملی ہے کہ آخر کن وجوہات کی بنا پر مرد و خواتین میں سیکس میں دلچسپی کم ہوتی ہے اور اس کے علاج کا طریقہ کیا ہو سکتا ہے۔
بشکریہ بی بی سی اردو

About BBC RECORD

Check Also

انسان کا نام و نشان مٹ جائے گا، 16 ہزار سائنسدانوں کی وارننگ جاری

Share this on WhatsAppنیویارک: دنیا بھر سے 184 ممالک کے 16 ہزار سائنس دانوں نے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے