امریکا شمالی کوریا: اشتعال انگیزی بڑھتی جا رہی ہے

امریکا اور شمالی کوریا کے مابین الفاظ کی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد اب وزیر دفاع جیمز میٹس نے پیونگ یانگ کو ’تباہی‘ سے خبردار کیا ہے۔ شمالی کوریا ’گوام‘ پر حملے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔

آج جمعرات کو جاری کیے جانے والے شمالی کوریائی بیان کے مطابق جیسے ہی حالات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوں گے وہ بحر الکاہل کے جزیرے گوام پر واقع امریکی فوجی اڈے کے قریب میزائل داغے گا۔ شمالی کوریا کی فوج کے کمانڈر جنرل کم رک گیوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’ کسی ایسے شخص کے ساتھ بات چیت ممکن نہیں ہے، جو بے بنیاد دعوے کرتا ہے۔ اس کا واحد علاج زبردست طاقت کا استعمال ہے۔‘‘

جنرل گیوم نے مزید کہا کہ پیونگ یانگ نے ہواسنگ 12 طرز کے چار میزائل داغنے کا منصوبہ بنایا ہے، جو جاپان کے اوپر سے گزرتے ہوئے گوام سے تیس سے چالیس کلومیٹر پہلے بین الاقوامی پانیوں میں گریں گے۔ ان کے بقول اس منصوبے کو وسط اگست میں حتمی شکل دے دی جائے گی۔

شمالی کوریا کی فوجیں 25 جون 1950ء کو جنوبی کوریا میں داخل ہو گئی تھیں۔ جنگ شروع ہونے کے چند دنوں بعد ہی جنوبی کوریا کے تقریبًا تمام حصے پر کمیونسٹ کوریا کی فوجیں قابض ہو چکی تھیں۔ تین سال جاری رہنے والی اس جنگ میں تقریباً 4.5 ملین افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

دوسری جانب جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے ترجمان نے شمالی کوریا کو ایک اور مرتبہ سخت الفاظ میں تنبیہ کی ہے۔ ان کے بقول، ’’ اگر پیونگ یانگ نے امریکا یا جنوبی کوریا پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو اسے اتحادیوں کی جانب سے انتہائی سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے اس دوران پیونگ یانگ سے کہا ہے کہ وہ غور کرنے کے بعد ہی کوئی ایسا اقدام اٹھائے، جس کا نتیجہ اس کی حکومت کے خاتمے اور عوام کی تباہی کی صورت میں نکلے، ’’ہماری وزات خارجہ ان کوششوں میں لگی ہوئی ہے کہ اس بین الاقوامی خطرے کو سفارتی طریقے سے حل کر لیا جائے۔ اس موقع پر یہ یاد دہانی کر لی جائے کہ متحدہ افواج کے پاس کرہ ارض کی سب سے بہترین اور آزمائی ہوئی دفاعی اور حملہ کرنے کی صلاحیتیں موجود ہیں۔‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں