An F/A-18F Super Hornet jet flies over the USS Gerald R. Ford as the U.S. Navy aircraft carrier tests its EMALS magnetic launching system, which replaces the steam catapult, and new AAG arrested landing system in the Atlantic Ocean July 28, 2017. Picture taken July 28, 2017. U.S. Navy/Erik Hildebrandt/Handout via REUTERS ATTENTION EDITORS - THIS IMAGE WAS PROVIDED BY A THIRD PARTY


ایرانی ڈرون طیارہ امریکی بحری بیڑے سے فقط31 میٹر دور

امریکی فوج کے ایک سینیر عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ روز خلیجی پانیوں میں موجود امریکا کے ایک بحری جنگی بیڑے کو ایران کے بغیر پائلٹ ڈرون طیارے سے اس وقت خطرات لاحق ہوگئے جب ڈرون طیارہ بار بار وارننگ کو نظر انداز کرتے ہوئے بحری بیڑے سے محض 31 میٹر کے فاصلے پر آگیا۔

بی بی سی ریکارڈ کے مطابق امریکی عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بحری بیڑا F/A18A کو اس وقت ہنگامی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جب ایران کا ایک ڈرون طیارہ وائرلس وارننگ کو نظر انداز کرتے ہوئے بیڑے کے قریب پہنچ گیا۔

امریکی عہدیدار نے ایرانی ڈرون کی بحری بیڑے سے انتہائی قریب پرواز کو خطرناک اور غیر پیشہ وارانہ قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ خلیجی پانیوں میں موجود امریکی بحری جہازوں اور ایرانی جنگی جہازوں کی مڈ بھیڑ معمول کی بات ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے آئے روز اپنے جہازوں کے انتہائی قریب ایرانی جہازوں کی پروازوں کی شکایات کی جاتی ہیں۔

خلیجی پانیوں میں ایرانی اور امریکی جہازوں کے ایک دوسرے کے قریب آنے کا رواں سال کا 17 واں واقعہ ہے، جسے امریکا نے غیر پیشہ وارانہ اور خطرناک قرار دیا ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

’سعودی صرف مغرب کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتے ہیں‘

Share this on WhatsAppقطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے ڈی ڈبلیو ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے