اسرائیلی فیصلہ ’میڈیا کی آزادی پر شرمناک حملہ‘ ہے، ایمنسٹی

اسرائیل نے ملک میں قائم الجزیرہ نیٹ ورک کے دفاتر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس فیصلے کو ’’میڈیا کی آزادی پر ایک شرمناک حملہ‘‘ قرار دیا ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں نے اسرائیلی حکومت کی طرف سے ملک میں الجزیرہ کو کام سے روکتے ہوئے اس نشریاتی ادارے کے دفاتر بند کرنے کے فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے۔ اسرائیلی حکام قطر میں قائم الجزیرہ نیوز نیٹ ورک پر ’’دہشت گردی کی مدد‘‘ کا الزام عائد کرتے ہیں۔

اسرائیلی وزیر مواصلات ایوب کارا نے اتوار چھ اگست کو کہا تھا کہ وہ اسرائیل میں کام کرنے والے الجزیرہ نیٹ ورک سے منسلک صحافیوں کے صحافتی ذمہ داریاں نبھانے کے اجازت نامے منسوخ کر دیں گے تاکہ وہ اسرائیل کے اندر کام نہ کر سکیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ملک میں قطر میں قائم اس نیٹ ورک کی نشریات کو بھی بند کر دیں گے۔

اسرائیلی وزیر مواصلات کا مزید کہنا تھا، ’’دہشت کے وقت میں ہمارے شہریوں کا اور ان کی بہتری آزادی اظہار سے مقدم ہے، بات ختم۔ اظہار رائے کی آزادی کا مطلب اشتعال انگیزی کی اجازت نہیں ہے۔ جمہوریت کی بھی حدود ہوتی ہیں۔ اگر بات اس پر آتی ہے کہ کونسی چیز کس پر مقدم ہے تو مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ میری ترجیح اسرائیل میں شہریوں اور فوجیوں کی زندگی ہو گی۔‘‘

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے جولائی کے اواخر میں کہا تھا کہ وہ الجزیرہ کو ملک سے نکال دینے پر غور کر رہے ہیں۔ ان کا یہ بیان مسجد الاقصیٰ کے باہر میٹل ڈیٹیکٹر لگانے کے اسرائیلی فیصلے کے بعد وہاں ہونے والے مظاہروں اور ان کی میڈیا کوریج کے حوالے سے سامنے آیا تھا۔ اسرائیل قطر میں قائم الجزیرہ نیٹ ورک پر اکثر یہ الزام عائد کرتا ہے کہ وہ اسرائیلی اور فلسطینی تنازعے کی جانبدارانہ کوریج کرتا ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی مشرقی اور شمالی افریقہ کے لیے ڈپٹی ڈائریکٹر مگدلینا مغربی نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ ’’تنقید کرنے والے میڈیا کو خاموش کرانے کی کوشش کو روکے‘‘۔ مغربی کا کہنا تھا، ’’تمام صحافیوں کو کسی خوف اور دھمکیوں کا سامنا کیے بغیر اپنا کام کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔‘‘

الجزیرہ نیٹ ورک کی طرف سے بھی اسرائیل کی طرف سے دہشت گردی میں تعاون کے الزامات عائد کرتے ہوئے اس نشریاتی ادارے کو ملک میں کام سے روکنے کے فیصلے کی مذمت کی گئی ہے۔ اس حوالے سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، ’’الجزیرہ ایک ایسی ریاست کی طرف سے کیے گئے اس فیصلے کی مذمت کرتا ہے جو خود کو مشرق وسطیٰ میں اکلوتی جمہوری ریاست قرار دیتی ہے۔‘‘

صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کی پریس فریڈم کے حوالے سے سال 2017ء کی رپورٹ میں اسرائیل کا نمبر 180 ممالک میں سے 91 ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں