یمن میں خونریزی، جنگ میں اب تک 11 ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے

واشنگٹن: یمن میں فضائی حملوں میں 12 شہری جاں بحق اور10زخمی ہوگئے۔
میڈیا کے مطابق یمن کی تحصیل سادا پر فضائی حملوں میں 12شہری ہلاک اور 10زخمی ہو گئے ،یمن کے وزیر انسانی حقوق محمد عسکر نے کہا ہے کہ حکومت کیخلاف بغاوت اور صنعاپر حوثیوں کے تسلط کے بعد سے اب تک 11ہزار سے زیادہ یمنی شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب ذرائع ابلاغ کے مطابق انسانی حقوق کے وزیر محمد عسکر نے گزشتہ روز جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا کہ 2015کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والوں میں1080بچے اور 684خواتین بھی شامل ہیں اس کے علاوہ 8صحافیوں کو بھی قتل کیا گیا ،ان کا کہنا تھا کہ اس عرصے کے دوران 1930 افراد کو اغوا بھی کیاگیاہے۔

ادھر اقوام متحدہ کے یمن انسانی امداد کے منتظم جیمی میک گلوڈ رِک نے جاری تحریری بیان میں کہا ہے کہ حوثیوں کے زیر کنٹرول اس شہر میں شہریوں کو ہدف بنانے والے حملے کی خبروں پر ہمیں شدید تشویش ہوئی ہے اور حملوں سے متعلق اقوام متحدہ انسانی حقوق کے ہائی کمشنر دفتر کی تحقیقات جاری ہیں،میک گولڈ رک نے یمن میں جھڑپوں میں مصروف فریقوں کے شہریوں کو نظر انداز کرنے کی مذمت کی اور در پیش مسائل کے خاتمے کیلیے فریقوں کو دوبارہ سے مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دی ہے۔
یادرہے کہ حوثیوں نے سعودی عرب کی زیر قیادت کولیشن فورسز کو کل سادا میں شہریوں کو ہدف بنانے والے حملوں کا قصور وار ٹھہرایا تھا تاہم کولیشن فورسز نے تا حال موضوع سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا، دریں اثنا یمن میں القاعدہ کی سرکوبی کیلیے امریکی اسپیشل فوج تعینات کردی گئی۔

میڈیاکے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹا گان نے بیان میں کہا ہے کہ امریکی اسپیشل فورس کے دستے یمن میں القاعدہ کے خلاف جاری لڑائی میں حصہ لے رہے ہیں،بیان میںکہا گیا ہے کہ القاعدہ کی سرکوبی کے لیے امریکی فوج کے خصوصی دستے اماراتی اور مقامی فوج کی مدد کررہے ہیں۔

پینٹاگان کے ترجمان کیپٹن جیو ڈیویز نے بتایا کہ یمن میں القاعدہ کے خلاف کارروائی کا ہدف شبو گورنری ہے جہاں یہ تنظیم سب سے زیادہ سرگرم ہے، یمن میں امریکی کمانڈوزکی تعیناتی کا مقصد القاعدہ کی دہشت گردانہ صلاحیت کو تباہ کرنا ہے، جیو ڈیویز کے مطابق 28 فروری 2017 کے بعد یمن میں القاعدہ کے ٹھکانوں پر 80فضائی حملے کیے گئے ہیں، دریں اثنا سعودی عرب نے یمن میں کے لیے 33.7ملین ڈالر ڈبلیوایچ اوکے دینے کاوعدہ کیاہے یہ رقم بیماریوںکی روک تھام سمیت دیگر ضروریات پرخرچ کی جائیگی۔

اقوام متحدہ کے ڈیولپمنٹ پروگرام کے سربراہ ایوک لوسٹما کاکہناہے کہ یمن میں اقوام متحدہ کے اعدادوشمارکے مطابق اب تک 4لاکھ سے زائد افردہیضے کاشکارہوچکے ہیں جن میں سے 2ہزارکے قریب افرادگزشتہ 4ماہ کے دوران دم توڑگئے، انھوں نے بتایا کہ یمن میں 20لاکھ بچے شدیدغذائی قلت کاشکارہیں جس کے سبب ان کے ہیضے میں مبتلاہونے کاخطرہ بڑھ گیاہے۔

About BBC RECORD

Check Also

’سعودی صرف مغرب کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتے ہیں‘

Share this on WhatsAppقطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے ڈی ڈبلیو ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے