جرمنی اپنے ہاں ’دہشت گردوں‘ پر توجہ دے، ترک صدر ایردوآن

نیٹو کے رکن دو اتحادی ملک ہونے کے باوجود ترکی اور جرمنی کے مابین دوبارہ پیدا ہونے والی کشیدگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے اور ترک صدر ایردوآن نے کہا ہے کہ برلن حکومت ’ان دہشت گردوں پر توجہ دے، جنہیں اس نے پناہ دے رکھی ہے‘۔

ترک دارالحکومت انقرہ اور جرمن دارالحکومت برلن سے جمعہ اکیس جولائی کے روز موصولہ مختلف نیوز ایجنسیوں کی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ موجودہ ترک جرمن کچھاؤ فریقین کے مابین گرما گرم بیان بازی کے باعث شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔
ترک صدر ایردوآن نے جمعے کے روز استنبول میں اپنے ایک خطاب کے دوران کہا کہ جرمن وزیر خارجہ زیگمار گابریئل نے کل جمعرات کے روز جرمن کمپنیوں کی طرف سے ترکی میں سرمایہ کاری پر پڑنے والے منفی اثرات سے متعلق جو بات کہی تھی، وہ قابل مذمت ہے اور برلن حکومت کو دراصل خود اپنی طرف دھیان دینا چاہیے۔

روئٹرز نے لکھا ہے کہ صدر ایردوآن نے استنبول میں اپنے ایک خطاب میں کہا، ’’جرمن وزارت خارجہ نے جرمن سیاحوں کو ترکی کے سفر سے متعلق جو تنبیہ جاری کی ہے، وہ بھی قطعی بے بنیاد ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ برلن حکومت ان دہشت گردوں پر بھی توجہ دے، جن کو اس نے اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے۔‘‘

روئٹرز کے مطابق اس بیان سے ترک صدر کی مراد وہ متعدد سابقہ ترک فوجی اور ان کے اہل خانہ ہیں، جنہوں نے ترکی میں گزشتہ برس جولائی کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے جرمنی میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دے رکھی ہیں اور جو اس وقت جرمنی ہی میں مقیم ہیں۔

دوسری طرف آج جمعے کے روز جرمن میڈیا میں سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے یہ خبریں بھی شائع ہوئیں کہ ترکی اپنے ہاں مبینہ طور پر کم از کم 68 ایسے جرمن اداروں کے بارے میں چھان بین کر رہا ہے، جن پر دہشت گرد گروپوں کی حمایت کا شبہ ہے۔ اس سلسلے میں جرمن میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ ان اداروں میں مرسیڈیز گاڑیاں بنانے والی کمپنی ڈائملر اور بہت بڑی کیمیکلز فرم BASF سمیت کئی بڑے جرمن نام بھی شامل ہیں۔

اس بارے میں بعد ازاں ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم نے ان رپورٹوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی جرمن کمپنی کے خلاف ترکی میں کسی دہشت گرد گروہ کی مبینہ حمایت کے سلسلے میں کوئی چھان بین نہیں کی جا رہی۔ یلدرم نے یہ بھی کہا کہ ترکی اور جرمنی کو اس شدید تر ہوتے جا رہے بحران کا حل مل کر اور بات چیت کے ذریعے نکالنا چاہیے۔

آج ہی جرمنی میں داخلی سلامتی کے ذمے دار خفیہ ادارے کے سربراہ ہنس گیورگ مآسین کا یہ بیان بھی ملکی میڈیا میں شائع ہوا، جس کے مطابق ترکی نے امریکا میں مقیم ترک مسلم مبلغ فتح اللہ گولن کے مبینہ حامیوں کو شناخت کرنے کے لیے جرمن سرزمین پر جاسوسی کی کارروائیاں کیں، جن کے باعث ایک نیٹو اتحادی ہونے کے باوجود ترکی خود اپنی ہی سرگرمیوں کی وجہ سے عملاﹰ جرمنی کا ’مخالف ملک‘ بن چکا ہے۔

دریں اثناء اسی تنازعے میں جرمن وزیر خزانہ وولفگانگ شوئبلے نے بھی آج اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ترکی میں اب ’قانون کی حکمرانی نہیں رہی‘۔ شوئبلے کے مطابق موجودہ ترکی اب سابقہ مشرقی جرمنی کی کمیونسٹ ریاست کی طرح ہو چکا ہے، جہاں لوگوں کو اندھا دھند گرفتار کیا جاتا تھا اور انہیں ان کے وکلاء تک رسائی کا موقع بھی نہیں ملتا تھا۔

برلن اور انقرہ کے مابین تازہ ترین کشیدگی کی وجہ انسانی حقوق کے سرکردہ جرمن کارکن پیٹر شٹوئڈنر کی ترکی میں دہشت گردی کی حمایت کے الزام میں گرفتاری بنی

وولفگانگ شوئبلے نے جرمنی کے کثیرالاشاعت روزنامے ’بِلڈ‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ’’آج کے ترکی کو دیکھ کر مجھے GDR یاد آ جاتا ہے۔‘‘ وزیر خزانہ کا مطلب سابقہ کمیونسٹ مشرقی جرمن ریاست تھی، جو جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک یا مختصراﹰ جی ڈی آر کہلاتی تھی۔
اسی ترک جرمن کشیدگی کے بارے میں روزنامہ ’بِلڈ‘ نے اپنی جمعہ اکیس جولائی کی اشاعت میں ایک سٹوری کی ہیڈلائن یہ لگائی، ’’ترکی کا بحران:کیا اب ایردوآن چھٹیاں گزارنے والوں کو گرفتار کر رہے ہیں؟‘‘

اس کے ردعمل میں صدر رجب طیب ایردوآن کی پارٹی برائے انصاف اور ترقی یا اے کے پی کے ایک رکن پارلیمان نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا، ’’ایسی صحافت نہ صرف تعطیلاتی سیاحت کے لیے ترکی جانے والے جرمن باشندوں کو ڈرانے کی کوشش ہے بلکہ یوں نسل پرستانہ منافرت کو بھی ہوا دی جا رہی ہے۔‘‘

About BBC RECORD

Check Also

اسپین:کرونا وائرس سے 24 گھنٹے میں 849 ہلاکتیں ، 9222 نئے کیسوں کی تصدیق

Share this on WhatsAppبی بی سی ریکارڈ لندن نیوز ؛ اسپین گذشتہ 24 گھنٹے کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے