ہتھیار ڈال دو یا موت کو گلے لگاؤ، عراقی افواج کا داعش کے لیے آپشن

مغربی موصل میں عراقی افواج نے پیر کے روز بھی اولڈ سٹی کے اندر داعش تنظیم کے زیر قبضہ علاقوں کے اطراف گھیرا تنگ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس دوران گرائے جانے والے پمفلٹس میں شہریوں کے لیے ہدایات اور شدت پسندوں سے خود کو حوالے کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔

عراقی فورسز نے اتوار کے روز مغربی موصل میں اولڈ سٹی کے علاقے پر حملے کا آغاز کیا تھا تا کہ وہاں شدت پسند تنظیم کے روپوش ارکان کو نکالا جا سکے۔

اس دوران اتوار کی شب عراقی فضائیہ کے تعاون سے موصل کی فضاؤں میں تقریبا 5 لاکھ پفلٹس گرائے گئے۔

پمفلٹس میں شہریوں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ عراقی فورسز نے اولڈ سٹی کو ہرطرف سے گھیرے میں لے کر تمام سمتوں سے حملے کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ شہریوں کو کھلے مقامات سے دور رہنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے تا کہ انہیں کسی طور انسانی ڈھال کے طور پر استعمال نہ کیا جا سکے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ نے جمعے کے روز اعلان کیا تھا کہ موصل کے اولڈ سٹی میں داعش کے ارکان کے ہاتھوں اس وقت ایک لاکھ سے زیادہ عراقی شہری بطور انسانی ڈھال یرغمال بنے ہوئے ہیں۔

ادھر بین الاقوامی تنظیم “سیف دی چلڈرن” نے تقریبا 50 ہزار بچوں کے انجام کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ تعداد محصور شہریوں کے نصف کے برابر ہے۔

دریائے دجلہ کے کنارے جامع مسجد الکبیر کے قریب عراقی فورسز کی بکتر بند گاڑیاں لاؤڈ اسپیکروں کے شہریوں اور شدت پسندوںکو پیغام دے رہی ہیں۔

اس دوران محصور شہریوں کو باور کرایا گیا ہے کہ ” ہم اولڈ سٹی کی جانب آ رہے ہیں۔ سکیورٹی فورسز آپ کی مشکلات کو ختم کرانے کے قریب پہنچ چکی ہیں”۔ تاہم دہشت گردوں سے سکیورٹی فورسز نے کہا ہے کہ وہ اپنے لیے دو میں سے کسی ایک اختیار کا انتخاب کر لیں.. یعنی خود کو قانون کے حوالے کر دیں یا پھر موت کو گلے لگانے کے لیے تیار ہو جائیں۔

مغربی موصل میں اولڈ سٹی پر حملے کی کارروائی تنگ راستوں اور متصل عمارتوں کے سبب عسکری مہم کی تکمیل کو کٹھن بنانے کا باعث ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں