شدت پسندی سے لڑنے کے لیے گوگل کے نئے اقدامات

گوگل کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر یوٹیوب کے وڈیو کلپوں کی شیئرنگ کے سلسلے میں.. تشدد اور انتہا پسندی پر اکسانے والے یا دہشت گردی کی جانب راغب کرنے والے کسی بھی مواد پر روک لگانے یا حذف کرنے کے لیے مزید اقدامات کرے گی۔

گوگل کے مطابق وہ ان وڈیو کلپوں کے حوالے سے زیادہ سخت موقف اپنائے گی جو شدت پسندی پر مبنی مواد پر مشتمل ہوتے ہیں یا جن میں مذہب کو اشتعال انگیزی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ناظرین کے لیے انتباہ جاری کیا جائے گا اور اس وڈیو کو ناظرین کی پسندیدگی یعنی “لائکس” حاصل کرنے کے لیے منظور نہیں کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ کمپنی شدپ پسندی پر مبنی وڈیو کلپوں کی شناخت میں مدد کے لیے ٹکنالوجی کے استعمال میں اضافہ کرے گی اور مواد کی درجہ بندی کرنے والوں خصوصی تربیت بھی فراہم کی جائے گی تا کہ وہ تیزی کے ساتھ اس طرح کے مواد کو جان کر اسے حذف کر دیں۔

گوگل کمپنی نے اس بات کا بھی اعلان کیا ہے کہ وہ شدت پسندی کے انسداد کے لیے کام کرنے والی جماعتوں اور تنظیموں کے ساتھ اپنے تعاون کو وسیع کرے گی تا کہ شدت پسندوں کی بھرتی کے لیے ممکنہ طور پر استعمال ہونے والے مواد کی شناخت کی جا سکے۔

جرمنی ، فرانس اور برطانیہ کی جانب سے فیس بک اور سوشل میڈیا کی دوسری ویب سائٹوں مثلا گوگل اور ٹوئیٹر وغیرہ پر دباؤ ڈالا گیا تھا کہ وہ شدت پسندی پر مبنی مواد اور منافرت پھیلانے والی تقاریر کو حذف کرنے کے واسطے مزید کوششیں کریں۔ واضح رہے کہ مذکورہ تینوں ممالک گزشتہ برسوں کے دوران شدت پسند دہشت گردوں کی جانب سے دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کا سامنا کر چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں