امریکا ایران کے خلاف جنگ کی راہ ہموار کر رہا ہے : رہ نما پاسداران انقلاب

ایرانی پاسداران انقلاب کے رہ نما جنرل ید اللہ جوانی کا کہنا ہے کہ امریکا کی نئی پالیسی اور دباؤ اور پابندیوں میں اضافہ جن میں بنیادی طور پر تہران کے میزائل پروگرام کو نشانہ بنایا گیا درحقیقت “ایران کے خلاف جنگ کی راہ ہموار کرنا ہے”۔ جوانی پاسداران انقلاب میں ایرانی مرشد اعلی کے مندوب کے مشیر بھی ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی “میزان” کے مطابق جنرل جوانی نے باور کرایا کہ ان پابندیوں کے باوجود تہران اپنا میزائل پروگرام جاری رکھے گا۔ پاسداران انقلاب کے کمانڈر کے نزدیک یہ پابندیاں اور دباؤ ایرانی دفاعی طاقت کمزور کرنے کی ایک کڑی ہے تا کہ ایران پر بھرپور جنگ مسلط کی جا سکے۔

امریکی سینیٹ نے جمعرات کے روز ایران کے خلاف “غیر نیوکلیئر” پابندیوں سے متعلق قانونی بِل کو 100 میں 97 ارکان کی حمایت کے ساتھ مںظور کر لیا تھا۔

ایران پر نئی امریکی پابندیوں میں ان افراد کو شامل کیا گیا ہے جو تہران کے بیلسٹک ہتھیاروں کے پروگرام میں شریک ہیں۔ اس میں ایران کو اسلحے کی فروخت کا دائرہ بھی تنگ کیا گیا ہے۔

ریپبلکن سینیٹر لینڈسی گراہم کا کہنا ہے کہ نئی پابندیاں ایک طاقت ور پیغام ہے کہ ” ایران کے ساتھ عام طریقے سے نمٹنا اختتام پذیر ہو چکا ہے”۔

امریکی وزارت خزانہ نے 3 فروری کو 13 شخصیات اور 12 اداروں پر پابندیاں عائد کی تھیں جو ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو سپورٹ کرنے کے لیے ٹکنالوجی اور ساز و سامان خریدنے میں شریک رہے.. اس کے علاوہ پاسداران انقلاب کی ذیلی تنظیم قُدس فورس کو بھی سپورٹ پیش کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں