روس نے سپاہیوں کو اوجھل رکھنے والا لباس تیارکرلیا

ماسکو: روسی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اپنے سپاہیوں کو دشمن کی نظر سے غائب رکھنے والا ایک لباس تیار کرلیا ہے۔

روس کی سراٹوف یونیورسٹی میں ماہرین نے جو لباس بنایا ہے وہ اپنے پہننے والے کو ریڈار اور دیگر ریڈیو شعاعوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ تاہم یہ سائنس فکشن فلموں یا ہیری پوٹر ناول جیسا نہیں بلکہ یہ فوجیوں کو ان کے پس منظر کے ساتھ ہم آہنگ کردیتا ہے اور اس سے مستقبل میں فوجی دشمن سے چھپے رہ سکیں گے۔ اس ٹیکنالوجی کے تحت فوجیوں کا یونیفارم اس قابل بنایا جاسکتا ہے کہ وہ ریڈار اور دیگر ریڈیو آلات کی لہروں کو جذب کرسکیں گے۔

روسی خبررساں ایجنسی اسپوتنک کے مطابق اس پر کام کرنے والے ماہر نے بتایا کہ اس تکنیک کی مدد سے فوجیوں کے یونیفارم میں ایسی تبدیلی پیدا کی جاسکتی ہے جس سے لباس پر پڑنے والی ہر ریڈیائی لہر جذب ہوجائے گی اور فوجیوں کو کسی بھی ریڈار اور ریڈیو آلے سے نہیں دیکھا جاسکے گا۔

اس کے لیے نینو پروسیسنگ سے لباس بنایا گیا ہے۔ لباس میں چھوٹے چھوٹے سیل لگائے گئے ہیں جو ازخود آس پاس کے ماحول کا رنگ محسوس کرکے کپڑے کی اوپری پرت پر عین وہی رنگ چڑھادیتے ہیں جو اطراف کا رنگ ہوتا ہے۔ اس کے لیے خاص طرح کا رنگ لباس پر چڑھایا گیا ہے جو حرارت محسوس کرنے والی ایک ڈائی کا کام کرتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ ٹیکنالوجی یونیورسٹی آف الینوائے اور میساچیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) نے مشترکہ طور پر ٹینکوں کو اوجھل رکھنے کے لیے وضع کی تھی۔ امریکی افواج ایک عرصے سے اپنے فوجیوں اور آلاتِ حرب کو چھپانے کے لیے کئی ایک ٹیکنالوجیز پر کام کررہی ہیں لیکن اب تک ان میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں