کائنات کا سب سے گرم سیارہ دریافت

سائنسدانوں نے کائنات کے دور دراز محلے میں ایک سیارہ دریافت کیا ہے جسے چھوٹی جہنم بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس سیارے کا درجہ حرارت 4,327 درجے سینٹی گریڈ ہے جو اب تک دریافت ہونے والا سب سے گرم سیارہ بھی ہے۔

سیارے کا نام کے ای ایل ٹی یا کیلٹ 9 بی رکھا گیا ہے اور یہ ہم سے 650 نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے یعنی روشنی کی رفتار سے سفر کریں تو ہمیں وہاں تک پہنچنے میں 650 برس لگیں گے۔ یہ ایک ستارے کے گرد بہت تیزی سے گھوم رہا ہے اور اسے اپنا ایک چکر مکمل کرنے میں ڈیڑھ دن لگتا ہے یعنی یہ اپنے سورج کے گرد زبردست رفتار سے گردش کررہا ہے۔

اس سے قبل 380 نوری سال کے فاصلے پر واسپ 33 بی نامی سیارہ دریافت ہوا تھا جس کا درجہ حرارت 3200 درجے سینٹی گریڈ نوٹ کیا گیا تھا۔ تاہم کیلٹ 9 بی نے اس کا ریکارڈ توڑ دیا ہے اور اب وہ 4 ہزار ڈگری سے زائد گرمی پر سرِفہرست ہے۔ یہ سیارہ سائگنس جھرمٹ میں موجود ہے اور اسے اوہایو اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین نے دریافت کیا ہے۔

سیارے کو دریافت کرنے والی ٹیم کے سربراہ پروفیسر اسکاٹ گوڈی کہتے ہیں کہ ان دنوں زمین نما سیاروں کی دریافت پر بہت زور دیا جارہا ہے تاکہ وہاں کسی حیات کا نشان دیکھا جاسکے لیکن کیلٹ 9 بی جس سورج کے گرد گھوم رہا ہے وہ خود بہت گرم ہے اور ہمارے سورج سے بڑا بھی ہے۔ اس سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ گرم ستاروں کے گرد کس طرح کے سیارے بنتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ گیسی سیارہ ہے جیسا کہ ہمارے نظامِ شمسی میں سیارہ مشتری (جیوپیٹر) ہے۔ سائنسدانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ کیلٹ 9 نامی سورج بھی کچھ کم گرم نہیں اس کا درجہ حرارت 9800 ڈگری سینٹی گریڈ ہے جو ہمارے سورج سے دوگنا گرم ہے۔
کیلٹ 9 بی سیارہ مشتری سے تین گنا بڑا ہے اور گرمی سے اس کی فضا کسی غبارے کی طرح پھول گئی ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

انسان کا نام و نشان مٹ جائے گا، 16 ہزار سائنسدانوں کی وارننگ جاری

Share this on WhatsAppنیویارک: دنیا بھر سے 184 ممالک کے 16 ہزار سائنس دانوں نے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے